سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 324 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 324

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 324 حضرت مقداد بن عمرو حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ حضرت مقداد بن عمرو کی کنیت ابو معبد تھی۔شہر بہرا کے باشندے تھے۔آپ لمبے قد اور گندمی رنگ کے تھے جسم بھاری بھر کم تھا۔سر پر بال زیادہ تھے۔داڑھی رنگا کرتے تھے جو بہت خوبصورت تھی نہ بہت بڑی اور نہ بہت چھوٹی۔(1) جاہلیت میں اسود بن یغوث زہری کے حلیف بنے۔انہوں نے منہ بولا بیٹا بنالیا اور تب سے مقداد بن عمرو کے بجائے مقداد بن اسود کہلائے۔جب یہ آیت اتری ادْعُوهُمْ لا بَاءِ هِـمُ هُوَاقْسَطُ عِندَ الله (الاحزاب : 6) کہ لوگوں کو انکے باپوں کے نام سے یاد کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔تو اپنی اصل ولدیت مقداد بن عمر و سے معروف ہوئے۔(2) قبول اسلام اور ہجرت مقدا دزمانہ جاہلیت میں اپنے شہر بہراء میں کسی دشمن کا خون کر بیٹھے۔ان کے قبیلے کے ذمہ دیت آئی۔یہ وہاں سے بھاگ کر کندہ قبیلہ میں چلے گئے اور ان کے حلیف بن گئے۔جب وہاں بھی ایسی نوبت آئی تو بھاگنا پڑا اور مکے میں آکر پناہ لی اور اسے اپنا وطن بنایا اور یہاں آکر اسود بن یغوث زہری کے حلیف بنے۔(3) مقداد کی خوش قسمتی کہ مکے آئے تو یہاں اسلام کا غلغلہ بلند ہو چکا تھا۔اور آغاز میں ہی انہیں اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ کا شمار اسلام قبول کرنے والے پہلے سات افراد میں ہوتا ہے۔(4) مکہ میں کفار قریش کی طرف سے مصائب اور ابتلاء کا سامنا کرنا پڑا تو دیگر اصحاب کی طرح مجبوراً حبشہ ہجرت کی۔وہاں سے واپسی ہوئی تو مدینہ ہجرت کا قصد کیا مگر اسمیں کفار مکہ کی طرف سے روکیں تھیں۔آنحضرت سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جاچکے تھے۔مقداد کسی ایسے حیلہ کی تلاش میں تھے جس سے وہ کفار کے چنگل سے نکل کر مدینہ ہجرت کر جائیں۔کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ