سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 319 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 319

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 319 حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ام ایمن کو اماں کہہ کر پکارتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص جنتی عورت سے شادی کرنا چاہے تو ام ایمن سے کر لے۔حضرت زید بن حارثہؓ نے یہ سنا تو ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔پھر ان کے بطن سے اسامہ پیدا ہوئے۔یہ سارا خاندان رسول اللہ کا منظور نظر تھا۔(2) غلام زادے سے محبت اسامہ اور زیڈ کی خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ دونوں کو جب رسول مہ یعنی رسول اللہ کے محبوب کا لقب دربار نبوی سے ملا۔حضرت اسامہ کی کنیت ابو محمد اور ابوزید بھی مشہور تھی۔حضرت اسامہ نے تو اپنی انگوٹھی پر بھی جب رسول کندہ کروایا تھا یعنی رسول اللہ کا پیارا۔آنحضرت ﷺ کو اسامہ سے خاص محبت تھی۔حضرت عمر فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اسامہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے سوائے ( میری بیٹی ) فاطمہ کئے“ حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ: ”اسامہ ہمارے دروازے کی دہلیز پر ٹھوکر کھا کر گر پڑے، چوٹ آئی ، خون پھوٹ پڑا۔رسول اللہ اللہ نے مجھے خون صاف کرنے کو فرمایا۔میں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کراہت محسوس کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بوسہ دیا اور خود اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا اور فر مایا اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے عمدہ پوشاک ولباس پہنا تا اور زیور سے آراستہ کرتا۔“ غالباً یہ اس کے بعد کا واقعہ ہو گا جو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے اسامہ کی ناک صاف کرنا چاہی۔میں نے عرض کی حضور میلہ چھوڑئیے میں کر دیتی ہوں۔فرمایا عائشہ اسامہ سے محبت کیا کرو میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں۔‘ (3) خود اسامہ کہتے ہیں کہ آنحضرت انہیں اور حضرت حسین کو دونوں رانوں پر بٹھا لیتے اور فرماتے اے اللہ ان دونوں سے محبت کر میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات سے واپسی پر تاخیر کی آپ کسی کا انتظار فرمارہے تھے کچھ دیر بعد ایک سیاہ فارم لڑکا آیا تو پتہ چلا کہ اسامہ بن زید کا انتظار تھا۔اہل یمن کہنے لگے کیا اس کی خاطر ہم روکے گئے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی آپ سے محبت کا سلوک فرماتے تھے۔حضرت عمرؓ نے اسامہ کا وظیفہ پانچ ہزار اور اپنے بیٹے کا دو ہزار مقرر کیا۔حضرت ابن عمر نے پوچھا آپ نے اسامہ کو مجھ پر فضیلت دی ہے حالانکہ میں ان غزوات میں بھی