سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 301
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رض 301 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ تھی۔لوگ کہتے تھے کہ بلال تو ابو بکر کی مٹی ہے یعنی طینت و سیرت صدیقی رکھتا ہے۔(33) حضرت عمر آپ کو ہمارا آقا بلال کہتے۔لوگ بلال کے پاس آکر ملتے ان کے فضائل و مناقب اور خدمات کا تذکرہ کرتے تو وہ کمال عاجزی سے فرمایا کرتے ”میں کیا ہوں ایک حبشی ہی تو ہوں۔جو کل تک غلام تھا۔‘ (34) رض ہاں اے بلال عبشی! آپ بھی سچ کہتے ہو مگر یہ بھی سچ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کی غلامی نے تجھے دنیائے اسلام کا آقا بنا دیا ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ کا یہ غلام آپ کے قدموں میں حاضر ہو گیا۔حضور ﷺ نے آپ کی زندگی ہی میں آپ کے جنتی ہونے کی خبر تو دے ہی دی تھی۔جب ایک روز آپ نے فرمایا تھا کہ اے بلال تم اپنا کوئی بہت ہی خوبصورت عمل بتاؤ جس کی وجہ سے میں نے جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ سنی ہے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے تو بتایا گیا کہ بلال ہے۔بلال کہنے لگے میرے آقا ! مجھے تو اپنا کوئی بھی عمل خوبصورت نظر نہیں آتا ہاں اتنی بات ہے کہ ہمیشہ با وضوء رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں تو دورکعت نماز ضرور پڑھتا ہوں۔بلال جب یہ حدیث بیان کرتے تو رو پڑتے تھے۔(35) حضرت ابوبکر کا بلال پر رشک حضرت ابوبکر نے جب آنحضرت سے حضرت بلال کی سعادت کا یہ اعلان سنا تو وہ جو مسابقت فی الخیرات کے میدان میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتے تھے وہ بھی حضرت بلال پر رشک کرنے لگے اور کہا اے کاش میں بلال ہوتا ! اے کاش میں بلال کی ماں کے بطن سے پیدا ہوتا ! ! اے کاش بلال کا باپ میرا باپ ہوتا اور میں بلال کی طرح ہو جاتا !!! اور یہ سعادت میرے حصہ میں آجاتی۔(36) شادی و اولاد حضرت بلال کی عائلی زندگی کے بارہ میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ انہوں نے مجردزندگی گزاری اور شادی کہیں نہیں ہو سکی۔حالانکہ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت یہ