سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 290
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 290 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بے عزت اور ذلیل کیا گیا۔گلے میں رسی ڈال کر مکے کی گلیوں میں کھینچا گیا اور نوجوان لڑکوں کے حوالے کر دیا گیا۔اور وہ سارا دن اُن کو شہر میں کھینچتے پھرتے مگر بلال اپنے صدق اور استقامت پر قائم رہے۔(2) ابو جہل بلال کو توحید سے منحرف کرنے کے لئے سخت اذیتیں دیا کرتا تھا۔مگر ایک ہی آواز جو ہمیشہ بلال کی زبان سے جاری ہوتی۔وہ توحید کا نعرہ اور احد احد کی آواز تھی کہ خدا ایک ہے۔خدا ایک ہے۔ایک دفعہ ورقہ بن نوفل حضرت بلال کے پاس سے گزرے۔اُس وقت انہیں سخت اذیت کا نشانہ بنایا جار ہا تھا۔اور بلال دیوانہ وار احد ، احد، اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے، پکاررہے تھے۔ورقہ بن نوفل انہیں دشمن کے چنگل سے تو چھڑا نہ سکے لیکن بلال کو دلاسا دیتے ہوئے کہا کہ اے بلال اگر اس طرح تو حید کی خاطر تمہاری جان جاتی ہے تو پرواہ نہ کرنا خدا کی قسم میں وہ شخص ہوں گا۔جو تمہاری قبر کو ہمیشہ کے لئے بطور ایک یاد گارنشان کے قائم رکھوں گا۔“ (3) آزادی اور دیر رسول کی دربانی بلال کا مالک دشمن اسلام امیہ تپتی دوپہر کو سنگلاخ زمین پر پشت کے بل لٹا کر آپ کے سینے پر پتھر رکھ دیتا اور کہتا محمد کا انکار کرو ورنہ اسی حال میں مر جاؤ گے۔مگر وہ پھر بھی یہی نعرہ بلند کرتے۔خدا ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول۔بلال کی یہ تکالیف اور دُکھ آنحضرت میے سے دیکھے نہ جاتے تھے۔آپ نے ایک روز ابوبکر سے مشورہ فرمایا کہ اگر ہمارے پاس کچھ مال ہوتا تو ہم بلال کو خرید لیتے اور وہ بے چارہ اذیتوں سے بچ جاتا۔حضرت ابو بکر نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ذریعہ سے بلال کے مالک امیہ سے بات کی اور حضرت ابو بکر کا ایک مضبوط غلام دے کر اس کے عوض حضرت بلال کو خرید لیا گیا جب کہ وہ پتھروں میں دبے پڑے تھے۔پھر خدا تعالیٰ کی خاطر ابو بکر نے انہیں آزاد کر دیا۔مکی دور میں جو مواخات ہوئی اُس میں ابو عبیدہ بن الجراح کو رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال کا دینی بھائی بنایا۔بعد میں ابور ویجہ تھی بھی حضرت بلال کے دینی بھائی بنے ہیں۔(4) حضرت بلال نے دنیوی غلامی سے آزاد ہو کر اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کی دائی