سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 289
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 289 حضرت بلال بن رباح" حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بلال نام بظاہر ایک سیاہ فام حبشی تھے۔لمبے قد کے دُبلے پتلے ،ہوٹے ہونٹ ،موٹی ناک سوکھے گال گھنے بال۔مکے کے خاندان بنی نج کی لونڈی حمامہ کے ہاں پیدا ہونے والے اس بچے سے کسی کو کیا رغبت اور دلچسپی ہو سکتی تھی ؟ کون کہہ سکتا تھا کہ ایک دن یہ غلام زادہ اپنے مالکوں کا آقا بنا دیا جائے گا۔محمد مصطفی کی قوت قدسیہ نے اس ناممکن کو کیسے ممکن بنایا ؟ اس سوال کا جواب حضرت بلال کی سچی کہانی ہے۔سعادت از لی نے بلال کی دستگیری کی۔رسول اللہ نے دعوی نبوت فرمایا تو بلال اولین ایمان لانے والوں میں شامل ہو گئے۔پھر رسول کریم ﷺ کی صحبت نے آپ کو ایسا چمکایا کہ اس سیاہ قالب کے قلب منور سے نور کی کرنیں پھوٹ پھوٹ کر دنیا کو روشن کرنے لگیں۔(1) ہمارے آقا ومولا حضرت محمد ﷺ نے اس خام سنگ سیاہ کو اپنے دست مبارک میں لے کر اس خوبی سے تراشا کہ وہ ایک خوبصورت چمکتا ہوا ہیرا بن گیا۔اور شش جہات میں اپنا نور اور حسن بکھیر نے لگا۔پھر یوں ہوا کہ وہی بلال محمد مصطفی ﷺ کی سچی غلامی کے طفیل ہم غلاموں کا بھی آقا بن گیا۔اب وہ پیکر سیاہ نہ رہا بلکہ بلال نام ہو گیا صدق اور استقامت کا وہ نشان ہو گیا الفت و وفا اور صبر ورضا کا۔وہ آواز بن گیا حق وصداقت کی۔ابتلاء پر استقامت حضرت بلال ابتدائی سات ایمان لانے والوں میں شامل تھے جن میں حضرت ابو بکر، عمار، یاسر سمیہ، مقداد وغیرہ شامل ہیں۔قریش مکہ کی مخالفت پر باقی لوگوں کے رشتہ دار اور عزیز تو اُن کی پشت پناہی کرتے تھے۔لیکن بلال بیچارہ تو بے آسرا تھا۔اُس کا کوئی سہارا نہ تھا۔اُن کا مالک امیہ بن خلف اور دیگر مشرکین انہیں سخت اذیتیں دیتے تھے۔امیہ لوہے کی زرہیں پہنا کر انہیں سخت چلچلاتی دھوپ میں پھینک دیتا۔اور اُن سے کلمہ کفر کہلوانا چاہتا۔کہ لات و عری کی خدائی کا اقرار کرو۔مگر آفرین ہے بلال پر جس کی زبان سے سوائے احد کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلا۔خدا کی راہ میں انہیں بہت