سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 285 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 285

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 285 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راضی ہیں اور مجھے تمہارے لئے وہ پسند ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔نبی کریم نے فرمایا ابن مسعودؓ نے درست کہا مجھے بھی اپنی امت کیلئے وہ پسند ہے جو ابن مسعودؓ نے پسند کیا۔(35) مقام تقویٰ حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے تھے کہ قرآن شریف کی سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 94 نازل ہوئی جس میں یہ ذکر ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے جب وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں پھر تقویٰ ( میں اور ترقی ) کریں اور ایمان لائیں پھر تقویٰ ( میں مزید ترقی ) کریں اور احسان کریں تو جو کچھ وہ کھائیں اس پر انہیں کوئی گناہ نہیں ( ہوگا ) اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔اس پر رسول اللہ اللہ نے مجھے فرمایا کہ تم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہو جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بہت دبلے پتلے سانولے رنگ اور پستہ قد کے تھے۔ایک دفعہ حضور کے ساتھ شریک سفر تھے کہ آپ نے انہیں ایک جنگلی درخت سے اس کا پھل ( پہیلوں ) تو ڑ کر لانے کیلئے فرمایا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بکریاں چرانے کے زمانے میں جنگلوں کی خاک چھانی ہوئی تھی اور درختوں پر چڑھنے کا ڈھنگ خوب آتا تھا۔اس لئے بڑی پھرتی سے درخت پر چڑھ گئے۔بعض لوگ ان کی دبلی پتلی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی مذاق کرنے لگے۔نبی کریم ﷺ کو اپنے اس محبوب صحابی کی غیرت آئی۔فرمایا کہ عبداللہ بن مسعود کی نیکیوں کا پلڑا قیامت کے دن بہت بھاری ہوگا۔اتنا بھاری کہ احد پہاڑ سے بھی بڑھ کر۔(36) گویا آپ نے اپنے خدام کو یہ سبق دیا کہ اسلام میں ظاہر سے بڑھ کر باطنی حسن کی زیادہ اہمیت اور قدرو منزلت ہے۔کہ جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے وہی سب سے زیادہ معزز بھی ہے۔روایات حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے حضرت ابو بکر و عمر سے روایات بیان کی ہیں۔حضرت ابو بکر وعمرو