سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 284
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 284 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ابھی وہ کچھ اور بیان کرتے۔شام کے وقت اس وعظ میں آپ بالعموم نبی کریم ﷺ کی احادیث میں سے صرف ایک حدیث سنایا کرتے تھے اور حدیث بیان کرتے وقت آپ کے جذب و شوق اور عشق رسول کا منظر دیدنی ہوتا تھا۔آپ کے شاگر د مسروق کہتے ہیں ایک روز آپ نے ہمیں نبی کریم ہے کی ایک حدیث سنائی اور جب ان الفاظ پر پہنچے سَمِعْتُ رَسُولَ الله - کہ میں نے خدا کے رسول سے سنا تو مارے خوف اور خشیت سے آپکے بدن پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔یہاں تک کہ آپ کے لباس سے بھی جنبش محسوس ہونے لگی۔اس کے بعد احتیاط کی خاطر یہ بھی فرمایا کہ شاید حضور تو نے یہ الفاظ استعمال فرمائے تھے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ۔(34) حدیث بیان کرتے وقت یہ خشیت اور کمال درجہ احتیاط اس وعید اور گرفت کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے جو نبی کریم ﷺ نے غلط احادیث بیان کرنے والوں کیلئے بیان فرمائی۔ایک اور روایت سے بھی ان کی اس احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے۔عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک عبداللہ بن مسعود کے پاس آتا جاتا رہاوہ حدیث بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ قال رسول اللہ ﷺ ( یعنی اللہ کے رسول نے فرمایا) کے الفاظ کہہ کر آپ پر ایک عجیب کرب کی کیفیت طاری ہوگئی اور پسینہ پیشانی سے گرنے لگا۔پھر فرمانے لگے کہ اس قسم کے الفاظ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ حضور ﷺ نے فرمائے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے مختصر خطاب کے بعد حضرت ابوبکر سے فرمایا کہ اب وہ لوگوں وعظ کریں۔انہوں نے مختصر وعظ کیا پھر حضرت عمرؓ سے فرمایا تو انہوں نے حضرت ابوبکر سے بھی مختصر وعظ کیا پھر کسی اور شخص سے فرمایا تو اس نے لمبی تقریر شروع کر دی۔رسول اللہ نے فرمایا بیٹھ جاؤیا فرمایا خاموش ہو جاؤ پھر حضور نے عبداللہ بن مسعودؓ سے تقریر کیلئے فرمایا انہوں نے حمد و ثناء کے بعد صرف یہ کہا اے لوگو! اللہ ہمارا رب ہے قرآن ہمارا رہنما بیت اللہ ہمارا قبلہ اور محمد ہمارے نبی ہیں۔دوسری روایت میں ہے انہوں نے کہا ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر