سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 236
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 236 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قربان۔آپ کس وجہ سے روتے ہیں؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارہ میں کوئی خبر آئی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ آج شہید ہو گئے۔اسمامہ کہتی ہیں میں اس اچانک خبر کو سن کر چیخنے لگی۔دیگر عورتیں بھی افسوس کے لئے ہمارے گھر اکٹھی ہو گئیں۔رسول کریم ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے اور ہدایت فرمائی کہ "جعفر" کے گھر والوں کا خیال رکھنا اور انہیں کھانا وغیرہ بنا کر بھجوانا کیونکہ اس صدمہ کی وجہ سے انہیں مصروفیت ہو گئی ہے۔حضرت شعمی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت اسما کو شہادت جعفر کی اطلاع دے کر ان کے حال پر چھوڑ دیا تا کہ وہ آنسو بہا کرغم غلط کر لیں پھر آپ دوبارہ ان کے ہاں تشریف لائے اور تعزیت فرمائی اور بچوں کیلئے دعا کی۔(11) بلاشبہ چالیس سالہ حضرت جعفر کی جوانی کی ناگہانی موت کا صدمہ بہت بھاری تھا اور ہمارے آقا ومولا پر سب سے گراں تھا کہ جعفری نہیں بہت عزیز تھے۔آپ نے کمال صبر و ضبط کا نمونہ دکھاتے ہوئے اپنے اصحاب سے فرمایا ” جو مقام شہادت ان شہداء کومل چکا ہے اس کی بناء پر خود ان کو بھی آج ہمارے پاس موجود ہونے سے زیادہ اُس مقام بلند کی خوشی حاصل ہے۔“ (12) صبر ورضا حضرت جعفر اور دیگر شہداء کی اچانک شہادتوں پر مدینہ میں رنج والم کا جو فوری طبعی و جذباتی رد عمل ہو سکتا تھا اسے ممکنہ حد تک ہی روکا جا سکتا تھا۔چنانچہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ شہدائے غزوہ موتہ کی اطلاع ملنے پر خود نبی کریم ہے جس میں تشریف فرما ہوئے۔آپ کے چہرے سے حزن و ملال کے آثار صاف ظاہر تھے۔ایک شخص نے آکر خاندان جعفر کی خواتین کی آہ و بکا کی شکایت کی۔( اب ظاہر ہے زبردستی تو خواتین کو اس سے روکا نہیں جا سکتا تھا وعظ و تلقین ہی کی جاسکتی تھی ) آپ نے اس شخص سے یہی فرمایا کہ واپس جا کر ان عورتوں کو سمجھاؤ کہ آہ و بکا سے باز رہیں۔وہ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد پھر واپس لوٹا اور کہنے لگا میں نے انہیں روکا تو ہے مگر وہ بات نہیں مانتیں۔حضور خود سخت صدمہ کی حالت میں تھے۔آپ نے پھر فرمایا پھر انہیں جا کر سمجھاؤ۔وہ گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا کہ وہ کسی طرح بھی باز نہیں آتیں۔آپ نے بیزاری سے فرمایا تو پھر ان کے منہ میں مٹی ڈالو یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔حضرت عائشہ فرماتی تھیں میں یہ سارا نظارہ دیکھ کر دل ہی دل میں کہ رہی