سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 10
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 10 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔حضرت عمر کا بیان ہے کہ جب انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوا۔وہ کھڑے نہ رہ سکے اور غم کے مارے نڈھال ہو کر بیٹھ رہے۔پھر تو مدینہ کے ہر شخص کی زبان پر یہ آیت تھی اور وہ رسول اللہ سے پہلے تمام انبیاء کی وفات کی دلیل سے رسول اللہ ﷺ کی وفات کا اعلان کرنے کا حوصلہ پار ہا تھا۔(28) الغرض وہ وقت بہت ہی نازک اور مشکل تھا۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ”ہماری زندگیوں میں جتنے مواقع آئے ، ان میں اس سے زیادہ خطرناک موقع میں نے نہیں دیکھا۔“ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ خلافت پورا ہونے والا تھا اور پہلے ایسا تجربہ موجود نہیں تھا کہ انتخاب کیسے ہو؟ اور کون خلیفہ مقرر ہو؟ جحضرت ابوبکر نے وفات رسول میلے کا اعلان کیا ہے۔صحابہ صدمہ سے ایسے چور ہوئے کہ مسجد نبوی میں ایک آہ و بکا اور گریہ تھی بس ! لوگوں کو کچھ سمجھ نہ آتی تھی کہ کیا کریں اس دوران انصار مدینہ اپنے سردار سعد بن عبادۃ کے پاس ان کے ڈیرہ سقیفہ بن ساعدہ میں اکٹھے ہوئے۔ادھر مہاجرین میں سے بزرگ صحابہ حضرت ابوبکر کے پاس حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور مہاجرین اکٹھے ہوئے اور سوچنے لگے کہ اسلام کے اوپر بڑا خطرناک وقت ہے کیا کیا جائے۔حضرت علی ، حضرت زبیر اور اہل بیت کے افراد آنحضور علی کے گھر میں تجہیز و تکفین کے کاموں میں مصروف تھے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ” اے ابو بکر آئیے ہم انصار کے پاس چلیں۔راستے میں ہمیں دو انصار بزرگ ملے انہوں نے یہ معلوم کر کے کہ ہم اپنے انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ہمیں فتنہ کے ڈر سے وہاں جانے سے منع کیا اور بتایا کہ وہ لوگ کسی اور طرف مائل ہو چکے ہیں تم اپنا کوئی الگ فیصلہ کرلو۔وہاں جانا خطرناک ہے۔میں نے کہا خدا کی قسم ! ہم تو ضرور وہاں جائیں گے۔پھر جب سقیفہ بنو ساعدہ پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کمبل اوڑھ کر بیٹھا ہے۔پتہ چلا کہ سردار خزرج سعد بن عبادہ کو بخار ہے۔گویا اس بخار کی کیفیت میں امیر بنانے کے لئے اسے وہاں لایا گیا تھا۔اس موقع پر انصار کا خطیب کھڑا ہوا اس نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا ہم اللہ کے انصار اور اس کا لشکر ہیں پھر انصار کے مناقب بیان کر کے مہاجرین کو مخاطب کیا کہ آپ مہاجرین کی جماعت ہو۔تمہاری قوم کے چند بدو چاہتے ہیں کہ ہمارا استیصال کریں اور