سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 223 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 223

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 223 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ میرے اہل بیت اور ان کے قرابت داروں سے میری وجہ سے محبت نہ کرے۔‘‘ (26) رسول اللہ علیہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں جب حضرت عباس اور دیگر اہل بیت کی طرف سے وراثت رسول کا سوال اٹھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ رسول کریم نے فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ صدقہ ہوگا اور محمد کے اہل بیت اس میں سے اپنے گزارے کے اخراجات لیا کریں گے۔میرا فیصلہ بھی یہی ہے باقی جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں کا تعلق ہے خدا کی قسم رسول اللہ اللہ کے قرابت دار مجھے اپنے قریبی رشتہ داروں سے بڑھ کر پیارے ہیں۔“ (27) حضرت عباس اور دیگر اہل بیت نے یہ فیصلہ بسر و چشم قبول کیا۔حضرت عمرؓ حضرت عباس کی بہت قدر و منزلت فرماتے تھے۔جب مدینہ میں قحط ہوتا تو حضرت عمرؓ، حضرت عباس کے نام کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کرتے تھے۔چنانچہ 17 ھ میں حضرت عمرؓ کے زمانہ میں شدید قحط پڑا تو حضرت کعب نے کہا اے امیر المومنین بنی اسرائیل میں جب اس قسم کی مصیبت آتی تھی تو وہ انبیاء کے کسی قریبی رشتہ کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ علیہ کے چا ان کے والد کے قائمقام اور بنی ہاشم کے سردار موجود ہیں۔چنانچہ وہ حضرت عباس کے پاس تشریف لے گئے اور قحط کی شکایت کی ، پھر حضرت عباس کو ساتھ لے کر منبر رسول ﷺ پر آئے اور یہ دعا کی۔”اے اللہ ہم اپنے نبی ﷺ کے چا ( جو اس کے باپ جیسے ہیں ) کا واسطہ لے کر تیرے دربار میں حاضر ہیں تو ہم پر رحمت کی بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ کر۔پھر حضرت عمرؓ نے حضرت عباس سے کہا اے ابو الفضل ! اب آپ کھڑے ہو کر دعا کریں، چنانچہ حضرت عباس نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد بڑی درد بھری دعا کی۔اے اللہ ! تیرے پاس بادل بھی ہیں اور پانی بھی ، پس بادلوں کو بھیج اور ان سے ہم پر پانی نازل فرما اور اس کے ذریعہ جڑوں کو مضبوط کر اور جانوروں کے تھنوں سے دودھ بھر دے۔اے اللہ ! تو کوئی مصیبت کسی گناہ کے بغیر نازل نہیں فرما تا اور سوائے تو بہ کے اسے دور نہیں کرتا اور پوری قوم تیری طرف رخ کر کے آئی ہے پس ہم پر بارش برسا۔اے اللہ!