سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 224 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 224

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 224 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ ہمارے نفوس اور گھروں کے حق میں ہماری شفاعت قبول فرمالے، اے اللہ ! ہم تجھے اپنے جانوروں اور چار پائیوں میں سے ان کا بھی واسطہ دیتے ہیں جو بولنے کی طاقت نہیں رکھتے ، اے اللہ ! ہمیں خوب اطمینان بخش اور نفع رساں برسنے والے اور عام موسلا دھار بادل سے سیراب کر۔اے اللہ ! ہم سوائے تیرے کسی سے امید نہیں کرتے ، نہ تیرے سوا کسی سے دعا کرتے ہیں اور نہ ہی تیرے سوا کسی سے رغبت رکھتے ہیں۔اے اللہ ! ہم ہر بھوکے کی بھوک کا شکوہ اور ہر نگے کے نگ کی شکایت تجھ سے کرتے ہیں۔ہر خوف زدہ کے خوف اور ہر کمزور کی کمزوری تیرے حضور پیش کرتے ہیں۔الغرض حضرت عباس نے خدا کے رحم کو جوش دلانے والی ایسی دعائیں کیں جن کا مختلف احادیث میں ذکر ہے کہ اس کے نتیجہ میں پہاڑوں جیسے بادل امڈ آئے اور آسمان برسا اور خوب برسا۔زمین کی زرخیزی لوٹ آئی اور لوگوں کو نئی زندگی نصیب ہوئی۔(28) حضرت حسان بن ثابت نے اس تاریخی واقعہ کا ذکر یوں فرمایا۔سَالَ الاِمَامُ وَقَدْ تَتَابَعَ جَدْبُنَا فَسَقَى الْغَمَامُ بِغُرَّةِ العَبّاسِ عَمُ النَّبِيِّ وَضَوءُ وَالِدِهِ الَّذِى وَرِثَ النَّبِيَّ بِذَاكَ دُونَ النَّاسِ احَيْيَ الإِلهُ بِهِ الْبِلاَدَ فَا صُبَحَتْ مُحْضَرَّةَ الأَجْنَابِ بَعْدَ الياس ( ترجمہ ) امام نے مسلسل قحط سالی کے بعد حضرت عباس کی پیشانی کا واسطہ دے کر دعا کی تو باران رحمت کا نزول ہو گیا ہاں وہ عباس جو رسول اللہ ﷺ کے چا اور اپنے اس والد کی روشنی ہیں جو نبی کریم کا باقی لوگوں سے بڑھ کر وارث ہے۔خدا تعالیٰ نے اس بارش سے شہروں کو زندہ کر دیا اور ایک مایوسی کے بعد ان کی اطراف سرسبز ہوگئیں۔بارش ہونے کے بعد لوگ حضرت عباس سے ملتے اور کہتے اے مکہ اور مدینہ کو بارش سے سیراب کرنے والے! تجھے مبارک ہو۔حضرت عمر نے اس موقع پر یہ اصولی وضاحت بھی فرمائی کہ خدا کی قسم !یہ اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ چاہنے اور اس کے ہاں مقام ومرتبہ کا معاملہ ہے۔“ (29) ایک دفعہ حضرت عمرؓ جمعہ پڑھانے کیلئے تشریف لا رہے تھے۔حضرت عباس کے گھر کے پر نالے کے پاس سے گزر ہوا۔جہاں دو چوزے ذبح کر کے ان کا خون پانی سے بہایا جا رہا تھا۔اس