سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 222 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 222

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 222 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ خوب پہچانتے تھے۔وہ ان سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے پر عمل کرتے تھے۔(22) ایک دفعہ حضرت عباس بیمار ہوئے اور موت کی تمنا کرنے لگے۔رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا ”موت کی تمنا نہ کرو کیونکہ اگر تو تم نیک ہو اور تمہیں اور مہلت مل جائے تو مزید نیکیوں کی توفیق مل جائے گی اور اگر معاملہ برعکس ہے اور پھر تمہیں مہلت مل گئی تو شاید اپنی کوتاہیوں سے معافی کی توفیق مل جائے اس لئے موت کی خواہش نہ کرو۔“ چنانچہ حضرت عباس رسول اللہ ﷺ کی دعا سے صحت یاب ہوئے اور حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ پایا۔صحبت رسول ﷺ کے نتیجہ میں انہیں دین کی گہری سمجھ عطا ہوئی اور وہ راضی برضا ہو گئے تھے۔ان سے مروی احادیث سے بھی یہ بات جھلکتی ہے کہ ان کے رجحانات اور احساسات و خیالات کیسے پاکیزہ تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا اس شخص نے ایمان کا مزا چکھ لیا جواللہ کو رب ، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول ماننے پر راضی ہو گیا۔(23) حضرت عباس نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ” میں آپ کا چا ہوں اور عمر رسیدہ موت قریب ہے آپ مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو اللہ کے ہاں مجھے فائدہ دے۔“ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” اے عباس ! تو میرا چا ہے اور میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا لیکن آپ اپنے رب سے یہ دعا کیا کرو۔اَللَّهُمَّ إِنِّي اَسْتَلْكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ ا الله میں تجھ سے عفو و عافیت کا طلبگار ہوں۔یہ بات حضور نے تین بار فرمائی۔سال گزرنے پر انہوں نے پھر یہ سوال کیا تو آپ نے انہیں یہی جواب دیا۔(24) حضرت عباس صاحب رؤیا و کشوف تھے۔رسول اللہ کی وفات کی پیشگی خبر انہیں بذریعہ رویا ہوئی جو انہوں نے خود رسول کریم ﷺ سے بیان کی کہ میں نے سورج یا چاند کو دیکھا کہ شاید اسے مضبوط رسیوں کے ساتھ زمین سے آسمان کی طرف اٹھالیا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا' اس سے مراد تمھارا بھتیجا ہے۔“ (25) خلفائے راشدین کا حسن سلوک رسول کریم ﷺ نے اپنے اہل بیت کے بارہ میں ارشاد فر مایا کہ کسی شخص کے دل میں ایمان