سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 214 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 214

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 214 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبد المطلب دراز قد خوبصورت شکل گورا رنگ ، یہ تھے رسول خدا ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف، جو عمر میں آپ سے دو تین سال ہی زیادہ تھے۔ان کی والدہ نتیلہ بنت خباب بن کلیب وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے خانہ کعبہ کو ریشمی غلاف چڑھایا۔کنیت ابوالفضل تھی۔زمانہ جاہلیت سے قریش کے رؤسا میں سے تھے۔بنو ہاشم کے سپرد بیت اللہ کی خدمت سقایہ ، یعنی حاجیوں کو پانی پلانا اور عمارة المسجد الحرام یعنی بیت اللہ کی آبادی اور قیام امن انہوں نے ورثہ میں پائی۔دیگر تمام سرداران قریش اس خدمت میں حسب معاہدہ ان کے معاون و مددگار ہوتے تھے۔اس لحاظ سے مکہ میں ایک شرف کا مقام انہیں حاصل تھا۔(1) قبول اسلام اور تائید و نصرت بالعموم حضرت عباس کا زمانہ اسلام ان کی ہجرت مدینہ کے وقت خیال کیا جاتا ہے جو فتح مکہ سے معا پہلے ہوئی لیکن فی الواقعہ انہوں نے مکہ میں بہت ابتدائی زمانہ میں اپنی بیوی ام الفضل کے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔مگر بیت اللہ کی اہم خدمات کی سعادت اور مکہ میں مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کیلئے حضرت عباس کا مکہ رہنا ایک دینی ضرورت تھی۔چنانچہ وہ رسول اللہ ہے کے ارشاد کے مطابق مکہ میں ہی رہ کر اہم خدمات بجالاتے رہے۔حضرت عباس کے صاحبزادے حضرت عبداللہ کی روایت ہے کہ ان کے والد حضرت عباس ہجرت مدینہ سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے دوسری روایت کے مطابق ام الفضل کے ساتھ حضرت عباس نے اسلام قبول کیا تھا۔اس دوسری روایت کی تائید رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابورافع نے بھی کی ہے میں حضرت عباس کا غلام تھا اور ان کے سارے گھرانے بشمول حضرت عباس ان کی بیوی ام الفضل اور میں نے آغاز میں اسلام قبول کر لیا تھا۔مگر عباس کو (اپنے منصب کی وجہ سے ) قوم قریش سے