سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 211 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 211

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 211 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی طرف موڑ دیئے اور پھر اپنے صبر کا نمونہ دکھاتے ہوئے انہیں نہایت خوبصورت انداز میں صبر کی تلقین بھی فرما دی۔حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت علی، جب احد سے واپس لوٹے تو آپ نے سنا کہ انصار کی عورتیں اپنے خاوندوں پر روتی اور بین کرتی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ حمزہ کو کوئی رونے والا نہیں۔انصار کی عورتوں کو پتہ چلا کہ وہ حضرت حمزہ کی شہادت پر بین کرنے کیلئے اکٹھی ہو گئیں۔تب نبی کریم ﷺ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے کا ماتم اور بین نہ کریں۔‘ (28) اس طرح آنحضرت ﷺ نے نہایت پر حکمت طریق سے انصار کی عورتوں کے جذبات کا بھی خیال رکھا اور انہیں اپنے خاوندوں اور بھائیوں کی جدائی پر ماتم سے روکنے کی بجائے حضرت حمزہ کے عظیم اور قومی صدمہ کی طرف توجہ دلائی جس کا سب سے بڑھ کر غم آپ کو تھا اور پھر حمزہ پر ماتم اور بین نہ کرنے کی تلقین فرما کر اپنا نمونہ پیش کر کے انہیں صبر کی موثر تلقین فرمائی۔جہاں تک حضرت حمزہ کی جدائی کے غم کا تعلق ہے وہ آنحضرت ﷺ کو آخر دم تک رہا۔چنانچہ حضرت حمزہ کا قاتل وحشی جب طائف کے سفارتی وفد میں شامل ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا تو حضور نے اس سے پوچھا کہ تمہارا نام وحشی ہے اس نے اثبات میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا کیا تم نے حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔‘ وحشی نے عرض کیا کہ یہ بھی درست ہے۔اس پر حضرت رسول اللہ اللہ نے صرف اتنا فرمایا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آیا کرو ( کہ تمہیں دیکھ کر مجھے اپنے محبوب چچا کی یاد آئے گی ) (29) بوقت شہادت حضرت حمزہ کی عمر انسٹھ سال تھی (30) رسول اللہ نے خدا اور اس کے رسول کے شیر کا خطاب دیا اور بلاشبہ وہ اس لائق تھے جیسا کہ کعب بن مالک نے ان کی شہادت پر اپنے مرثیہ میں کہا تھا۔” میری آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور حمزہ کی موت پر انہیں رونے کا بجاطور پر حق بھی