سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 197 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 197

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 197 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ میں تفتیش کے لئے روانہ کئے گئے۔ان تحقیقات کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی قابل اعتراض بات انہوں نے نہیں پائی۔( 11 ) اس سلسلہ میں ابھی کچھ عمل درآمد نہ ہونے پایا تھا کہ مفسدین نے مدینہ آ کر قصر خلافت کا محاصرہ کر لیا۔حضرت عثمان ذاتی طور پر منافقین کے مقابلہ پر کوئی مدافعانہ کا روائی پہلے کرنے کے حق میں نہیں تھے۔البتہ وعظ و نصیحت کرتے رہے۔اس موقع پر حضرت طلحہ خلیفہ وقت کی اخلاقی مدد کر سکتے تھے وہ انہوں نے کی۔مثلاً ایک موقع پر حضرت عثمان نے باغیوں کے سامنے اپنے فضائل ومناقب بیان کر کے طلحہ جیسے کبار صحابہ سے اس کی تائید چاہی تو محاصرین کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حضرت طلحہ نے اعلانیہ اور کھلم کھلا محاصرین کے سامنے حضرت عثمان کی تائید کی۔جب محاصرہ زیادہ خطرناک ہو گیا تو حضرت علی اور حضرت زبیر کی طرح حضرت طلحہ نے بھی اپنے صاحبزادے محمد گو خلیفہ وقت کی حفاظت کے لئے قصر خلافت بھجوایا۔جب مفسدین نے حملہ کرنے میں پہل کر دی تو محمد بن طلحہ نے بھی اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق ان کا مقابلہ کیا۔(12) اور دوسرے معدد و چند محافظین کے ساتھ مل کر مفسدین کے سیلاب کو روکے رکھا مگر چند بد بخت دوسری طرف سے حضرت عثمان کے گھر میں گھس گئے اور خلیفہ راشد پر حملہ کر کے ان کی دردناک شہادت کا واقعہ سامنے آیا۔دیگر صحابہ کی طرح حضرت طلحہ کو بھی اس سانحہ سے سخت صدمہ پہنچا۔وہ جہاں حضرت عثمان کے لئے عفو ورحم کی دعائیں کرتے وہاں مفسدین کے مظالم دیکھ کر خدا کی بارگاہ میں ان کی گرفت کیلئے التجا کرتے۔حضرت طلحہ تنہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔خشیت الہی اور محبت رسول سے آپ کا پیمانہ لبریز تھا۔حضرت طلحہ نے اپنے مال و جان سے خدمت دین میں جس طرح سے اپنی دلی تمنا ئیں اور مرادیں پوری کیں اس پر خدائے ذوالعرش نے بھی گواہی دی۔چنانچہ جب آیت رِجَالٌ صَدَقُوا مَاعَهَدُو اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ (الاحزاب : 24) نازل ہوئی۔اس میں ان مردان خدا کا تذکرہ تھا جنہوں نے اللہ سے اپنے عہد سچ کر دکھائے اور اپنی منتیں پوری کیں اور کچھ ہیں جو انتظار میں ہیں۔رسول خدا ﷺ نے حضرت طلحہ سے فرمایا کہ اے طلحہ ؟ تم بھی ان خوش نصیب مردان وفا میں شامل ہو جو اپنی قربانی پوری کرنے کی انتظار میں ہیں۔(13) حضرت طلحہ بڑے مالدار تاجر تھے۔اس کے ساتھ فراخ دل اور سخی انسان بھی تھے۔