سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 2
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 2 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نصیب ہوگی۔(3) جب آنحضرت نے دعویٰ نبوت فرمایا۔حضرت ابوبکر صدیق “ ان دنوں باہر سفر پر تھے۔واپس مکہ پہنچے تو آنحضرت کے دعوی نبوت کی خبر ہوئی فورا حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعویٰ کے بارے میں استفسار کیا۔آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تم مجھ پر ایمان لاؤ۔حضرت ابو بکر نے فوراً بیعت کر لی اور یوں رسول اللہ کو ان کے اسلام پر بے حد خوشی ہوئی۔(4) مولانا روم کیا خوب فرماتے ہیں:۔لیک آں صدیق حق معجز نخواست گفت این روخود نه گوید غیر راست یعنی حضرت ابو بکر نے کوئی معجزہ آپ کی صداقت پر طلب نہ کیا اور چہرہ دیکھ کر ہی بیعت کر لی کہ یہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔رسول کریم نے فرمایا کہ ” میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اسے کچھ نہ کچھ تر د دضرور ہوا۔سوائے ابوبکر کے کہ جب میں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے ذرہ برابر بھی تردد نہیں کیا۔(5) علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر مردوں میں سے سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان کی چار پشتوں کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے۔(6) حضرت ابن عباس سے شعمی نے پوچھا کہ سب سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا؟ انہوں نے کہا آپ نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہیں سنے۔إِذَا تَذَكَّرتَ شَجرًا مِن أَخِي ثِقَةٍ فَاذْكُر أَخَاكَ أَبَا بَكْرِ بِمَا فَعَلَ خَيرَ الْبَرِيَّةِ أَتَقَاهَا وَأَعْدَلَهَا بَعدَ النَّبِيِّ وَأَوفَاهَا بِمَا حَمَلَ اَلثَّانِيُّ التَّالِيُّ المَحْمُودُ مَشْهَدُهُ وَأَوَّلُ النَّاسِ مِنهُم صَدَّقَ الرسَلَ وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي غَارِ الْمِنيفِ وَقَد طَافَ العَدُوُّ بِهِ إِذْ صَعِدَا الجَبَلَ یعنی ” جب تمہارے دل میں کوئی درد آمیز یاد تمہارے کسی بھائی کے متعلق پیدا ہو تو اپنے بھائی ابوبکر کو بھی یاد کر لیا کرو اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے جو یادرکھنے کے قابل ہیں۔وہ آنحضرت کے بعد سب لوگوں سے زیادہ متقی اور منصف مزاج تھا اور سب سے زیادہ اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے