سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 124
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 124 حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بھی مردانگی کی ایک شان تھی۔اپنے قاتل ابن ملجم کے بارہ میں بھی فرمایا کہ اسے اچھا کھانا کھلاؤ اور اچھا بستر دو۔اگر میں زندہ رہا تو خود اس کی معافی یا سزا کا فیصلہ کروں گا اور اگر میں مر گیا تو اسے میرے ساتھ ملا دینا مگر اس کے ناک کان نہ کاٹنا۔حضرت علی بلند پایہ خطیب تھے۔نہایت فصیح و بلیغ مؤثر وعظ فرماتے۔خوارج سے مقابلہ کے زمانہ میں آپ کے خطبات مشہور ہیں جو نہج البلاغہ میں آپ کی طرف منسوب ہیں اسمیں شک نہیں کہ حضرت علی کے فضائل کے بارہ میں مبالغہ سے بھی کام لیا گیا ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہیے۔رسول اللہ نے آپ سے بجا فرمایا تھا کہ ” آپ کی مثال حضرت عیسی کی ہے کہ جس سے یہودی ناراض ہوئے اور عیسائیوں نے انہیں اصل مقام سے کہیں زیادہ بڑھا کر پیش کیا۔‘ خود حضرت علی فرماتے تھے کہ میرے بارہ میں دو آدمی ہلاک ہونگے ایک محبت سے غلو کرنے والا ، دوسرا جھوٹا اور بہتان تراش۔ایک دفعہ حضرت امام حسنؓ سے کسی نے کہا بعض شیعہ جو ( حب علی کے دعویدار ہیں ) یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی دابتہ الارض ہیں جن کے خروج کی قرآن میں پیشگوئی ہے اور وہ قیامت سے پہلے پھر ظاہر ہونگے۔اس پر حضرت امام حسنؓ نے فرمایا وہ جھوٹ کہتے ہیں یہ لوگ ہرگز حضرت علی سے محبت کرنے والے نہیں بلکہ ان کے دشمن ہیں۔اگر ان کی بات درست ہوتی اور حضرت علی نے دوبارہ ظاہر ہونا ہوتا تو ہم انکی میراث تقسیم نہ کرتے اور نہ ان کی بیوگان کا آگے نکاح کرتے۔(39) امیر معاویہ نے ضرار صدائی سے کہا کہ حضرت علیؓ کے اوصاف بیان کرو۔اس نے کہا اے امیر المومنین مجھے اس سے معاف فرمائیں۔انہوں نے کہا تمہیں یہ بیان کرنے ہوں گے۔وہ کہنے لگے کہ اگر آپ ضرور سننا ہی چاہتے ہیں تو پھر سنیں کہ ” خدا کی قسم وہ بلند حوصلہ اور مضبوط قومی کے مالک تھے۔فیصلہ کن بات کہتے اور عدل - فیصلہ کرتے تھے ان کی جانب سے علم کا چشمہ پھوٹتا تھا اور حکمت ان کے اطراف سے ٹپکتی تھی۔وہ دنیا اور اس کی رونقوں سے وحشت محسوس کرتے اور رات اور اس کی تنہائی سے انس رکھتے تھے۔وہ بہت رونے والے، لمبا غور و فکر کرنے والے تھے۔چھوٹا لباس اور موٹا سادہ کھانا پسند تھا۔وہ ہم میں ہماری