سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 125
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 125 حضرت علی رضی اللہ عنہ طرح رہتے تھے۔ہم سوال کرتے تو وہ ہمیں جواب دیتے اور جب ہم کسی خبر کی بابت دریافت کرتے تو ہمیں بتاتے۔اور خدا کی قسم ہم ان کے ساتھ محبت و قرب کے تعلق کے باوجود ان کے رعب کی وجہ سے بات کرنے سے رکتے تھے۔وہ دین دار لوگوں کی تعظیم کرتے اور مساکین کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے۔طاقتور کو اس کے باطل موقف میں طمع کا موقع نہ دیتے اور کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہ ہوتا۔اور خدا کی قسم ! میں نے انہیں بعض مقامات پر دیکھا جبکہ رات ڈھل چکی تھی اور ستارے ڈوب چکے تھے وہ اپنی داڑھی کو پکڑے ایسے مضطرب ہیں جیسے وہ شخص جسے سانپ کاٹ جائے اور وہ غمگین انسان کے رونے کی طرح روتے اور کہتے تھے اے دنیا ! تو میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا دے تو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے یا میری مشتاق ہوتی ہے۔تجھ پر افسوس صد افسوس۔میں تو تمہیں تین طلاقیں دے چکا ہوں جو واپس نہیں ہوسکتیں پس تمہاری عمر بہت محدود ہے اور تمہارا مقصد بہت حقیر ہے۔آہ! زادراہ کتنی کم اور سفر کتنا لمبا ہے اور راستہ کتنا وحشت ناک ہے۔یہ سن کر امیر معاویہ رو پڑے اور کہا اللہ ابوالحسن پر رحم کرے خدا کی قسم ! وہ ایسے ہی تھے۔اے ضرار ! تمہارا غم ان کی وفات پر کیسا ہے؟ ضرار نے کہا اس ماں کی مامتا کا غم جس کا بچہ اس کی گود میں ذبح کر دیا جائے۔‘(40) حضرت مسیح موعود د فر ماتے ہیں:۔" حضرت علی پاکباز اور متقی انسان تھے اور رحمان خدا کے محبوب بندوں میں سے تھے۔اور خدائے غالب کے شیر تھے۔آپ وہ بے مثال بہادر تھے میدان جنگ میں خواہ دشمنوں کی فوج سے مقابلہ ہوا اپنے مرکز سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔کئی معرکہ ہائے جنگ میں اپنی شجاعت کے حیرت انگیز جو ہر دکھائے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ شیریں بیان اور مخلص انسان تھے۔الغرض ہر ایک خوبی میں اور فصاحت و بلاغت میں کوئی آپ کا نظیر نہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے تھے۔علوم قرآنی میں آپ کو ایک سبقت حاصل تھی اور قرآنی نکات کے ادراک کا ایک خاص فہم آپ کو حاصل تھا اور میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت علیؓ نے مجھے کتاب اللہ کی ایک تفسیر دی ہے اور کہا کہ یہ میری تفسیر ہے اور آپ کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔جو آپ کو دیا گیا اُس پر آپ کو مبارک ہو۔چنانچہ میں نے وہ تفسیر لے لی اور میں نے حضرت علی کو پختہ اخلاق کا مالک اور تواضع اور منکسر المزاج اور