سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 121
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 121 حضرت علی رضی اللہ عنہ آنے والے اس کا مقام نہ پاسکیں گے۔رسول اللہ ہے اسے جھنڈا عطا کرتے تھے اور جبریل و میکائیل اس کے دائیں بائیں لڑتے تھے۔وہ فتح کے بغیر واپس نہ لوٹتا تھا اور اللہ نے اس رات اس کی روح قبض کی جس رات حضرت عیسی کی روح قبض ہوئی اور جس میں قرآن اترا یعنی 27 رمضان المبارک۔یہ 40 ھ کا سال تھا۔جس میں حضرت علی کی وفات قریباً ساٹھ سے پینسٹھ سال کی عمر میں ہوئی ان کا دور خلافت چار سال نو ماہ رہا۔“ (32) دراصل حضرت علی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفر واپسی کا اشارہ ہو چکا تھا۔آپ مقاتلانہ حملہ کے بعد تین روز تک زندہ رہے اگر چہ زخم بہت گہرا نہ تھا مگر زہر آلود تلوار کے اس وار سے آپ جانبر نہ ہو سکے۔علالت کے ان ایام میں عمروزی مر آپ کی عیادت کو آئے۔آپ کا زخم دیکھ کر کہا کہ زخم بہت گہرا نہیں آپ اچھے ہو جائیں گے۔آپ نے فرمایا ”نہیں میں تم سے جدا ہونے والا ہوں۔اس پر صاحبزادی ام کلثوم رو پڑیں تو آپ نے فرمایا بیٹی ! جو میں دیکھ رہا ہوں اگر تم دیکھ لیتیں تو نہ روتیں۔میں فرشتوں اور نبیوں کو دیکھ رہا ہوں اور محمد مجھے کہہ رہے ہیں اے علی ! تمہیں بشارت ہو کہ جہاں تم آتے ہو وہ اُس سے بہتر ہے جس میں تم ہو۔آخری وقت میں حضرت علی اپنی وصیت سے فارغ ہوئے تو سب موجود لوگوں کو الوداعی سلام فر مایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! اس کے بعد کوئی بات نہیں کی سوائے لا الہ الا اللہ کے کلمہ کے یہاں تک کہ آپکی روح قبض ہوگئی۔آپ کے صاحبزادوں نے آپ کو غسل دیا اور حضرت امام حسنؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کا ترک ایک خوشبو تھی جو آپ کی وصیت کے مطابق میت کو لگائی گئی۔حضرت علی کی وصیت کا ماحصل یہی تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اور محمد کی سنت کو ضائع نہ کرنا اور اسلام کے دونوں ستونوں نماز اور زکوۃ کو قائم کرنا۔“ جب آپ سے عرض کی گئی کہ اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کر دیں تو فر مایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا تھا میں بھی نہیں کروں گا۔عرض کیا گیا کہ اس بارہ میں آپ خدا کے حضور کیا جواب دیں گے؟ فرمایا میں کہوں گا اے اللہ ! تو نے مجھے جب تک چاہا ان لوگوں میں باقی رکھا پھر تو نے میری روح قبض کرلی اور تو خودان میں موجود اور نگران تھا اگر تو چاہے تو انکی اصلاح