سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 118 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 118

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 118 حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب نے بیعت کی۔(28) دور خلافت الغرض مہاجرین اور انصار کے اصرار پر آپ نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔حضرت علیؓ کے دور خلافت پر نظر کرتے ہوئے خود حضرت علی کے اس تبصرے کو نہیں بھولنا چاہیے۔جب آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا دور اتنا پر آشوب اور پرفتن کیوں ہے؟ انہوں نے کمال حاضر جوابی سے کیسا مسکت جواب دیا کہ اس سے پہلے محمد اور آپ کے رفقاء کو میرے جیسے خدام میسر تھے۔مجھے تمہارے جیسے ساتھی حاصل ہیں۔مگر ان ناموافق حالات کے باوجود حضرت علی نے بھر پور کوشش کی کہ خلافت کو استحکام نصیب ہو۔اور عدل فاروقی پھر قائم کیا جائے۔ایک دفعہ یہود نجران نے ( جن کو حضرت عمرؓ نے جلا وطن کیا تھا) حضرت علیؓ سے واپسی کی اجازت چاہی۔آپ نے اجازت نہ دی اور فرمایا حضرت عمر سے بہتر رائے کس کی ہوسکتی ہے؟ حضرت علی قومی اموال کی پوری حفاظت فرماتے اور اس میں کوتاہی پر گرفت کرتے۔رعایا کے ساتھ شفقت سے پیش آتے۔ان کے لئے ہمیشہ آپ کے دروازے کھلے رہتے۔حضرت علی کی دینی خدمات میں سب سے اول دعوت الی اللہ اور مسلمانوں کی مذہبی اور دینی تعلیم ہے۔ایک دفعہ ایک ایرانی نے آپ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر کیا خوب کہا تھا کہ خدا کی قسم اس عربی نے تو نوشیرواں کی یاد تازہ کر دی ہے۔فضائل حضرت علی نعشرہ مبشرہ میں سے تھے یعنی وہ دس صحابہ جنہیں رسول کریم ﷺ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی۔حضرت عمر فر ماتے تھے کہ حضرت علی کے تین فضائل ایسے ہیں کہ مجھے ان کا عطا ہونا سرخ اونٹوں کی دولت سے بھی زیادہ محبوب ہوتا۔اول رسول اللہ ﷺ سے دامادی کا شرف دوسرے مسجد میں حضور کے ساتھ ان کا گھر اور تیسرے خیبر میں فتح کا جھنڈا عطا ہونا۔(29) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حضرت علی کے فضائل پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی انتہائی قرابت اور آپ کے فیض صحبت میں تربیت و پرورش اور حضور ﷺ کی لخت جگر کے ان کے