سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 112
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 112 حضرت علی رضی اللہ عنہ بنو سعد کی سرکوبی میں بھی حضرت علیؓ نے نمایاں اور اہم کردارادا کیا۔غزوہ بنوقریظہ میں حضرت علی پہلے موقع پر پہنچ گئے تھے۔یہود نے رسول اللہ ﷺ اور ازواج مطہرات کے خلاف نازیبا ہرزہ سرائی شروع کر رکھی تھی۔حضرت علی نے لوائے جنگ حضرت ابوقتادہ کے سپرد کر کے رسول اللہ ﷺ سے جا کر عرض کیا کہ آپ ان ناپاک لوگوں کے قریب نہ جائیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں خدشہ ہے کہ وہ بدزبانی کریں گے۔‘ عرض کیا جی ہاں۔فرمایا 6 مجھے دیکھ کر وہ یہ جرأت نہیں کر سکتے۔‘ (20) حدیبیہ میں شرکت ہجری میں صلح حدیبیہ میں بھی حضرت علی رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ اور بیعت رضوان میں بھی شریک تھے۔صلح نامہ بھی آپ نے ہی تحریر فرمایا۔اس موقع پر آپ کی ایمانی غیرت کا نظارہ قابل دید تھا۔جب معاہدہ میں رسول اللہ علیہ کے الفاظ لکھے جانے پر کفار نے اعتراض کیا کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول نہیں مانتے اس لیے یہ الفاظ معاہدہ سے حذف کیے جائیں۔رسول اللہ ہے نے قیام صلح اور امن کی خاطر یہ شرط مان لی تو حضرت علیؓ نے نہایت ادب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ علے میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کا لفظ مٹانے کی جرات نہیں کر سکتا۔رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے لفظ رسول اللہ یہ معاہدہ سے حذف کیا۔(21) فاتح خیبر حضرت علی شیر خدا کو فاتح خیبر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔خیبر کی طرف اچانک پیش قدمی سے یہود سراسیمہ ہو کر محصور ہو گئے۔رسول اللہ ﷺہ روزانہ ایک شخص کو قائد لشکر مقرر فرماتے اور یہودیوں پر بھر پور حملہ کیا جاتا۔وہ قلعے سے باہر آ کر لڑتے اور جب پسپا ہوتے تو قلعہ کے دروازے بند کر لیتے یوں خیبر کی فتح ایک معمہ بن گئی۔محاصرہ خیبر کی ساتویں رات تھی رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اپنے صحابہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ کل میں جس شخص کو قائد مقرر کر کے جھنڈا عطا کروں گا، خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ پر خیبر کوضرور فتح کرائے گا۔وہ صحابہ جنہیں کبھی قیادت کی طلب نہیں ہوئی