سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 98 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 98

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 98 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہ جب تمہارا اور زید کا کسی آیت کی تلاوت یا قراءت میں اختلاف ہو تو قریش کی لغت کو ترجیح دیتے ہوئے قرآن تحریر کیا جائے کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے۔چنانچہ ان اصحاب نے یہ کام کیا جب نقول تیار ہو گئیں تو پہلا نسخہ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو واپس بھجوا دیا اور نئے تیار شدہ نسخوں کی نقول مختلف ممالک میں بھجوا کر حکم دیا کہ اس کے علاوہ دیگر قراءتوں پر مشتمل کوئی نسخے ہوں تو وہ جلا دئے جائیں۔(62) اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کیلئے قرآن شریف کی حفاظت کے سامان ہو گئے۔آپ کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک یادر ہے گا۔چنانچہ آج اسلام کے مخالف مستشرقین بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔نولڈ کے کا قول ہے:۔"Slight clerical errors there may have been but the Quran of Othman contains none but genuine elements, though sometimes in very strange order۔Efforts of European scholars to prove the existence of later interpations in the Quran have failed۔" (ترجمہ) ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں ( طرز تحریر کی ) ہوں تو ہوں، لیکن جو قرآن عثمان نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اُس کا مضمون وہی ہے جو محمد نے پیش کیا تھا۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہے۔(63) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب سر الخلافہ میں حضرت عثمان کی شان میں فرماتے ہیں:۔ابو بکر و عمر اور عثمان اصل صلاح و ایمان تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا۔اور جو رحمان خدا کی عنایت سے خاص کئے گئے۔اور ان کی اعلیٰ صفات پر کئی صاحب عرفان لوگوں نے گواہی دی ہے۔انہوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے وطن ترک کئے۔اور جنگ کے میدانوں میں کود پڑے اور خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے شیخین اور تیسری اس ہستی کو جو ذوالنورین ہے اسلام کے دروازوں کی طرح بنایا ہے۔اور یہ خدائے خیبر کی فوج کے ہر اول دستے ہیں اور اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ کی پیروی میں وہ ایک بلند مقام پر ہیں اور وہ اُمَّةً وَسَطاً کے