سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 555
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم اس قسم کی دعائیں ترقی اسلام اور لوگوں کے لئے قبول اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے کی بکثرت ہیں۔(۱۷) ایک دعوت مباہلہ کی دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دعوئی سے پیشتر جب خدمت اسلام کے لئے قلم اٹھایا اور منکرین و مخالفین اسلام کو دعوت مقابلہ دی تو اپنی صداقت و حقیت اسلام و قرآن مجید اثبات نبوت محمدیہ عَلَيْهِ التَّحِيَّةُ پر اس قدر یقین اور بصیرت تھی کہ مختلف قسم کے رقمی انعامات پیش کیے۔براہین احمدیہ کے جواب کے لئے دس ہزار کا انعام پیش کیا اور کسی کو آج تک جرات نہ ہوئی کہ شرائط پیش کردہ کے رو سے مقابلے پر آتا۔پھر براہین احمدیہ کے بعد سرمہ چشم آریہ کے لئے بھی پانچ سو روپیہ کا انعام مشتہر کیا۔مگر کسی آریہ کو اس انعام کے لئے آج تک ہمت نہ ہوئی۔اسی قسم کی تحدیوں کے علاوہ آپ نے سرمہ چشم آریہ کے آخر میں۔دعوت مباہلہ بھی دی یہ کسی معمولی دل گردے کے انسان کا کام نہیں اس میدان میں وہی آگے بڑھ سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر کامل ایمان رکھتا ہو اور اپنی صداقت اور کامل ایمان ہونے پر بھی اس کو بصیرت افزایقین ہو۔چنانچہ آپ نے سُرمہ چشم آریہ کے جواب کے لئے اولاً دعوت دی اور چہل روزہ دعوت نشان نمائی کا اعلان کیا اور بالآخر اس کے ساتھ ہی مباہلہ کی دعوت دی۔مباہلہ ایک دعا ہے جو ہر ایک فریق اپنے متعلق کرتا ہے۔میں ذیل میں جس دعائے مباہلہ کو درج کرنا چاہتا ہوں اس کے سمجھنے کے لئے کہ وہ کسی تقریب سے دی گئی اس حصہ کو بھی درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو بطور تمہید یا تقریب ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔”اب ہم اپنی پہلی کلام کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ وید برکات روحانیہ اور محبت الہیہ تک پہنچانے سے قاصر اور عاجز ہے اور کیونکر قاصر و عاجز نہ ہو وہ وسائل جن سے یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں یعنی طریقہ حقہ خداشناسی و معرفت نعماء البی و