سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 556
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بجا آوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق مرضیه و تزکیه نفس عن رذائل نفسیه ان سب معارف کے صحیح اور حق طور پر بیان کرنے سے وید بکلی محروم ہے۔کیا کوئی آریہ صفحہ زمین پر ہے کہ ہمارے مقابل پر ان امور میں وید کا قرآن شریف سے مقابلہ کر کے دکھلاوے؟ اگر کوئی زندہ ہو تو ہمیں اطلاع دے اور جس امر میں امور دینیہ میں سے چاہے اطلاع دے تو ہم ایک رسالہ بالتزام آیات بینات و دلائل عقلیہ قرآنی تالیف کر کے اس غرض سے شائع کر دیں گے کہ تا اسی التزام سے وید کے معارف اور اس کی فلاسفی دکھلائی جائے اور اس تکلیف کشی کے عوض میں ایسے وید خوان کے لئے ہم کسی قدر انعام بھی کسی ثالث کے پاس جمع کرا دیں گے جو غالب ہونے کی حالت میں اس کو ملے گا۔شرط یہی ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھ سکتا ہوتا ہمارے وقت کو ناحق ضائع نہ کرے۔جاننا چاہیے کہ جو شخص حق سے اپنے تئیں آپ دور لے جاوے اس کو ملعون کہتے ہیں اور جو حق کے حاصل کرنے میں اپنے نفس کی آپ مدد کرے اس کو مقرون کہتے ہیں۔اب ہمارے مقابل پر مقرون یا ملعون بننا آریوں کے ہاتھ میں ہے اگر کوئی با تمیز آریہ جو ویدوں کی حقیقت سے خبر رکھتا ہو موازنہ و مقابلہ وید و قرآن کی نیت سے تین ماہ کے عرصہ تک میدان میں آ گیا اور ہماری طرف سے جو رسالہ بحوالہ آیات و دلائل قرآنی تالیف ہو دید کی شرتیوں کے رو سے اس نے رڈ کر کے دکھلا دیا تو اس نے وید اور وید کے پیروؤں کی عزت رکھ لی اور مقرون کے معزز خطاب سے ملقب ہو گیا لیکن اگر اس عرصہ میں کسی ویددان نے تحریک نہ کی تو وہ خطاب جو مقرون کے مقابل پر ہے سب نے اپنے لئے قبول کر لیا اور اگر پھر باز نہ آویں تو آخراٹیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے ہیں۔مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہیے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑسکے سو سب سے پہلے لالہ مرلیدھر صاحب اور پھر لالہ جیوند اس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندر من صاحب مراد آبادی