سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 507 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 507

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۰۷ انتظار میں ٹھہرانا پڑا۔ان دنوں حضرت مفتی صاحب بہت بیمار تھے۔جب حضور لا ہور اترے تو اسٹیشن سے ان کی عیادت کے لئے ان کے مکان پر تشریف لے گئے جو محلہ ستھان میں تھا اور انہوں نے کرایہ پر لیا ہوا تھا۔ایک گھنٹہ کے قریب ان کے پاس بیٹھے رہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی ہمراہ تھے۔جب آپ تشریف لے جانے لگے تو انہیں فرمایا کہ مفتی صاحب آپ بیمار ہیں۔بیمار کی بھی دعا قبول ہوتی ہے۔آپ ہمارے کام میں کامیابی کے لئے دعا کریں۔بندہ بھی اس وقت حضرت مفتی صاحب کے پاس موجود تھا۔یہ آخر اکتوبر ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے اس طرح سے گا ہے گا ہے آپ دوسروں سے بھی اپنے مقاصد کے واسطے دعا کرایا کرتے تھے۔ایک طریقہ دعا جموں کے رہنے والے خلیفہ نور الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور آجکل قریب سو سال کی عمر میں جموں میں مقیم ہیں۔انہوں نے ذکر کیا کہ ایک دفعہ میری آنکھیں دکھتی تھیں۔بہت علاج کئے۔مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میری آنکھیں اچھی ہونے میں نہیں آتیں۔حضور نے فرمایا آپ ان الفاظ میں دعا کیا کریں اے خدا میرے وہ گناہ بھی بخش جن کی وجہ سے میں اس آنکھوں کے مرض میں گرفتار ہو گیا ہوں۔“ دعا سے عربی تصنیف اپنے ابتدائی ایام تصانیف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی کتاب عربی زبان میں نہیں لکھی تھی۔بلکہ تمام تصانیف اردو میں یا نظم کا حصہ فارسی میں لکھا۔ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور کچھ عربی میں بھی لکھیں۔تو بڑی سادگی اور بے تکلفی سے فرمایا کہ میں عربی نہیں جانتا مولوی صاحب بے تکلف آدمی تھے انہوں نے پھر عرض بھی کچھ کیا میں کب لے اشاعت ہذا کے وقت فوت ہو چکے ہیں رضی اللہ عنہ ( عرفانی)