سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 508
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۰۸ حصہ پنجم کہتا ہوں کہ حضور عربی جانتے ہیں۔میری غرض تو یہ ہے کہ کوہ طور پر جائیے اور وہاں سے کچھ لائیے۔فرمایا ہاں میں دعا کروں گا۔اس کے بعد آپ تشریف لے گئے اور جب دوبارہ باہر تشریف لائے تو ہنتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب میں نے دعا کر کے عربی لکھنی شروع کی۔تو یہ بہت ہی آسان معلوم ہوئی۔چنانچہ پہلے میں نے نظم ہی لکھی اور کوئی سو شعر عربی میں لکھ کر لے آیا ہوں۔آپ سنئے یہ عربی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی تصنیف تھی اور کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج ہوئی۔اس کے بعد آپ نے کئی کتابیں عربی میں تصنیف کیں اور زمانہ بھر کے علماء کر چیلنج کیا کہ کوئی آپ کے مقابلہ میں ایسی فصیح اور بلیغ پر معنی و معارف و حقائق سے پُر عبارت عربی زبان میں لکھ کر دکھاوے مگر کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ اس مقابلہ کے لئے کھڑا ہوتا الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام کاروبار کا انحصار دعاؤں پر تھا۔آپ کی زندگی کے اوقات کا اکثر حصہ دعاؤں میں گزرتا تھا۔ہر کام سے قبل آپ دعا کیا کرتے تھے اور اپنے دوستوں کو بھی دعاؤں کے طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔دعا کو آپ ایک عظیم الشان نعمت یقین کرتے تھے۔کسی اور ذریعہ کو آپ ایسا عظیم التاثیر نہیں بتلاتے تھے۔جیسے کہ دعا ہے اور دعا کو اسباب طبعیہ میں سے ایک سبب بتلاتے تھے۔سرسید بانی علی گڑھ کالج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا؎ ہاں مکن انکار میں اسرار قدرت ہائے حق قصہ کوتاه کن بین از ما دعائے مستجاب نہ