سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 506 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 506

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو اپنی مدد کے لئے پکارتا ہے۔تو دیکھتے ہو۔کہ۔اس کی پکار میں کیا انقلاب اور تغیر ہوتا ہے۔اس کی آواز ہی میں درد بھرا ہوا ہوتا ہے۔جو دوسروں کے رحم کو جذب کرتا ہے اسی طرح وہ دعا جو اللہ تعالیٰ سے کی جائے اس کی آواز اس کا لب ولہجہ اور ہی ہوتا ہے۔اس میں وہ رقت اور درد ہوتا ہے جو الوہیت کے چشمہ رحم کو جوش میں لاتا ہے۔اس دعا کے وقت آواز ایسی ہو کہ سارے عضو اُس سے متاثر ہو جائیں اور زبان میں خشوع خضوع ہو۔دل میں درد اور رقت ہو۔اعضا میں انکسار اور رجوع الی اللہ ہو اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم پر کامل ایمان اور پوری امید ہو۔ایسی حالت میں جب آستانہ الوہیت پر گرے گا۔نامراد واپس نہ ہوگا۔چاہیے کہ اس حالت میں بار بار حضور الہی میں عرض کرے کہ میں گنہگار ہوں اور کمزور ہوں تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ ہو نہیں سکتا۔تو آپ رحم فرما اور مجھے گناہوں سے پاک کر۔کیونکہ تیرے فضل و کرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے جو مجھے پاک کرے۔جب اس قسم کی دعا میں مداومت کرے گا اور استقلال اور صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور تائید کا طالب رہے گا۔تو کسی نا معلوم وقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نو ر اور سکینت اس کے دل پر نازل ہوگی۔جو دل سے گناہ کی تاریکی کو دور کرے گی اور غیب سے ایک طاقت عطا ہوگی۔جو گناہ سے بیزاری پیدا کرے گی۔اور وہ ان سے بچے گا۔اس حالت میں دیکھے گا کہ میرا دل جذبات اور نفسانی خواہشوں کا ایسا اسیر اور گرفتار تھا۔گویا ہزاروں ہزار زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔جو بے اختیار اسے کھینچ کر گناہ کی طرف لے جاتے تھے۔ایک دفعہ وہ سب زنجیر ٹوٹ گئے ہیں اور آزاد ہو گیا ہے اور جیسے پہلی حالت میں گناہ کی طرف ایک رغبت اور رجوع تھا اُس حالت میں وہ محسوس اور مشاہدہ کرے گا کہ وہی رغبت اور رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔گناہ سے محبت کی بجائے نفرت اور اللہ تعالیٰ سے وحشت اور نفرت کی بجائے محبت اور کشش پیدا ہوگی۔اوروں سے دعا کرانا جب حضرت مفتی محمد صادق صاحب لا ہورا کو نٹنٹ جنرل کے دفتر میں ملازم تھے۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملتان کے سفر پر تشریف لے گئے۔لاہور میں حضور کو دوسری گاڑی کے