سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 505
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ پنجم لئے پناہ ہے۔اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔یہ بھی یقیناً سمجھو کہ یہ ہتھیار اور نعمت صرف اسلام ہی میں دی گئی ہے۔دوسرے مذاہب اس عطیہ سے محروم ہیں۔آریہ لوگ بھلا کیوں دعا کریں گے جبکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ تناسخ کے چکر میں سے ہم نکل ہی نہیں سکتے اور کسی گناہ کی معافی کی کوئی امید ہی نہیں ہے۔ان کو دعا کی کیا حاجت اور کیا ضرورت اور اس سے کیا فائدہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آریہ مذہب میں دعا ایک بے فائدہ چیز ہے اور پھر عیسائی دعا کیوں کریں گے۔جبکہ وہ جانتے ہیں کہ دوبارہ کوئی گناہ بخشا نہیں جائے گا۔کیونکہ مسیح دوبارہ تو مصلوب ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ خاص اکرام اسلام کے لئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ امت مرحومہ ہے۔لیکن اگر آپ ہی اس فضل۔محروم ہو جائیں اور خود ہی اس دروازہ کو بند کر دیں تو پھر کس کا گناہ ہے۔جب ایک حیات بخش چشمہ موجود ہے۔اور آدمی ہر وقت اس سے پانی پی سکتا ہے۔پھر بھی اگر کوئی اس سے سیراب نہیں ہوتا ہے۔تو خود طالب موت اور نشانہ ہلاکت ہے۔اس صورت میں تو چاہیے کہ اس پر منہ رکھ دے اور خوب سیراب ہو کر پانی پی لیوے۔یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔قرآن شریف کے تین پارے ہیں اور سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں۔لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں وہ نصیحت کون سی ہے۔جس پر اگر مضبوط ہو جا ئیں اور اس پر پورا عمل درآمد کریں۔تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔مگر میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے۔دعا کو مضبوطی سے پکڑ لو۔میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالیٰ ساری مشکلات کو آسان کر دے گا۔لیکن مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔اور وہ نہیں سمجھتے کہ دعا کیا چیز ہے دعا یہی نہیں کہ چند لفظ منہ سے بڑ بڑائے یہ تو کچھ بھی نہیں۔دعا اور دعوت کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارنا اور اس کا کمال اور مؤثر ہونا اس وقت ہوتا ہے۔جب انسان کمال درد دل اور سوز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے طرف رجوع کرے اور اس کو پکارے ایسا کہ اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر آستانہ الہی کی طرف بہہ نکلے یا جس طرح