سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 408 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 408

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۸ پر بھی ناراض نہ ہوتا تھا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ناراض ہونا جانتا ہی نہ تھا وہ اپنے ایک مخلص خادم پر محض اس وجہ سے ناراض ہوتا ہے کہ اس نے ایک بیمار کی تیمارداری میں کیوں غفلت کی۔اور وہ بیمارلوگوں کے پیمانہ امتیاز کے لحاظ سے محض نا قابل لحاظ شخص ہو سکتا ہے۔مگر حضرت کی نظر میں بہ حیثیت انسان اتنی ہی قیمتی جان رکھتا تھا جیسے کوئی اور محترم و معز شخص۔واقعہ کی تفصیل تو وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔مگر میں اس کا نام یہاں بھی دینا چاہتا ہوں یہ وہی پیرا پہاڑ یا حضرت کا خادم تھا۔جس کا ذکر اسی سیرت میں متعدد مرتبہ آیا ہے اور آتا رہے گا۔دوسروں کی ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے اپنے وقت کا بہت سا حصہ اردگرد کے دیہات کی گنوار عورتوں اور بچوں کے علاج میں بھی دے دیا کرتے تھے۔اور دوسرے کام چھوڑ کر بھی اس طرف توجہ کرتے۔ایک مرتبہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اسے تضیع اوقات سمجھ کر عرض بھی کیا۔جب کہ خود انہوں نے اس منظر کو دو تین گھنٹہ تک خود مشاہدہ کیا۔اس کا جو جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا اسے خود حضرت مولوی صاحب نے تحریر فرمایا ہے۔اسے پڑھو اور سوچو کہ اس جواب دینے والے کے اندر کون سی روح بول رہی ہے۔حضرت مخدوم الملت فرماتے ہیں فراغت کے بعد میں نے عرض کیا حضرت یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت ضائع جاتا ہے۔اللہ اللہ کس نشاط اور طمانیت سے مجھے جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے یہ مسکین لوگ ہیں یہاں کوئی ہسپتال نہیں میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھا کرتا ہوں جو وقت پر کام آجاتی ہیں اور فرمایا۔یہ بڑا ثواب کا کام ہے مومن کو ان کاموں میں سُست اور بے پروا نہ ہونا چاہیے۔66 ( مصنفہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۳۵) مخلوق کی ہمدردی اور مواسات باہمی کی ہمیشہ تعلیم دیتے اور اپنے عمل سے اس کی روح پیدا کرتے۔