سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 409
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ با بوشاہ دین صاحب مرحوم کا واقعہ اور حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جولوگ سلسلہ میں حدیث العہد ہیں وہ سلسلہ کے پرانے مخلصین اور وفا دار جان نثار مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے عموماً واقف نہیں۔اور میرے لئے یہ ناممکن ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و شمائل میں ان مخلصین کے سوانح حیات اور ان کی سلسلہ کے لئے خدمات اور قربانیوں کا ذکر کر سکوں۔چاہتا ہوں کہ ان کی یاد نئے آنے والوں کے لئے چھوڑ سکوں۔مگر یہ خدا کے فضل اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔بابوشاہ دین صاحب بھی انہیں مخلص اور جاں نثار دوستوں میں سے ایک تھے۔آپ اسٹیشن ماسٹر تھے ابتداء پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے تعلق رکھتے تھے۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو اس سلسلہ میں آنے کی توفیق دی تو شاہ دین حقیقی طور پر شاہ دین بن گیا۔اس کی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب پیدا ہوا۔وہ جو اپنے ہمعصروں میں بادہ خوار تھا۔وہ شب زندہ دار اور ایک زاہد بے ریا اور ولی اللہ ہو گیا۔وہ بیمار ہو کر قادیان آگئے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ام المومنین کی بظاہر علالت اور حقیقتاً مشیت ایزدی کے ماتحت لاہور تشریف لے گئے۔آپ کو بابوشاہ دین صاحب کے علاج اور خبر گیری کی طرف خاص توجہ تھی۔آپ نے لاہور پہنچ کر اپنی وفات سے ۱۳ روز پیشتر مخدومی حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین کو (جن کو الدار میں رہنے کے لئے چھوڑ گئے تھے۔عرفانی) ایک خط لکھا۔میں اس خط کے اس حصہ کو جو حضرت بابوشاہ دین صاحب کے متعلق ہے یہاں دیتا ہوں۔اس سے معلوم ہوگا کہ حضور کو کس قدر توجہ اس امر کی طرف تھی کہ بابو صاحب کی خبر گیری میں کسی قسم کی سستی نہ ہونے پاوے۔حضور لکھتے ہیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ با بوشاہ دین صاحب کی تعہد اور خبر گیری سے آپ کو بہت ثواب ہوگا۔میں بہت شرمندہ ہوں کہ