سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 405
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ جس اعلیٰ مقام پر ہیں۔کیا کوئی اس کی نظیر پیش کر سکتا ہے۔پھر ایک طرف ہمدردی اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کی ساری مخلوق کو اپنا کنبہ قرار دیا ہے۔انسان اپنے کنبہ کی پرورش اور نگرانی میں بُرے بھلے کی تمیز نہیں کرتا۔اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ اپنی صفت ربوبیت میں مومن و کافر اور زندقہ۔انسان و حیوان کا تفرقہ نہیں کرتا لیکن جیسے محبت اور تعلق خاص صفات اور خوبیوں کی پروا کی جاتی ہے جیسے معیت کے متعلق فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا و الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : ۱۲۹) اسی طرح صادق اور خدا پرست انسان باوجود یکہ ایک طرف کل مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور مروت کے لئے اپنے قلب کو وسیع پاتا ہے لیکن دوسری طرف خدا تعالیٰ کی محبت اور تعلق کے لئے پھر اس مخلوق میں قربانی کا سلسلہ شروع کرتا ہے۔چنانچہ ہر بہتر کے لئے ادنیٰ کو قربان کرتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے اخوت کے لئے صالحین کو منتخب کیا۔ہر شخص کے چال چلن اخلاق اور مرغوبات کا پتہ اس کے دوستوں سے مل سکتا ہے۔اب جو ہستی صرف صالحین سے محبت کرتی ہے۔اور انہیں اخوت کے مقام پر رکھتی ہے اس کی صلاحیت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔قرآن مجید نے مومن کو اِخْوَةٌ کا درجہ دیا ہے۔اور مومن کا ادنی درجہ صالح ہے۔صالح وہ ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا فساد باقی نہیں ہے۔صالح غذا و ہی کہلاتی ہے جس میں کوئی نقص نہ ہو۔پس صالح وہی مومن رہتا ہے جس کے اعتقادات صحیح کے مطابق اعمال ہوں یہ صلاحیت بطور بیج کے ہوتی ہے۔پھر جس قدر انسان اس میں ترقی کرتا ہے وہ ایمانی مدارج میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ شہدا ء صد یقین اور مبین کے مقام کو علی قدر مراتب پالیتا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک آپ کی ہمدردی ایسی عام اور وسیع ہے آپ اخوت اور محبت کے تعلق صرف ان لوگوں سے رکھنا پسند کرتے تھے جو صالح اور ہر قسم کے فساد سے پاک ہوں۔میرے دوستو! کیا ہمارا یہ فرض نہیں کہ ہم ہر ایک قسم کے فساد سے پاک ہو کر صلاحیت اپنے اندر پیدا کریں۔اور ہمارے تعلقات اخوت صرف اسی زمرہ سے ہوں جو صالحین کا زمرہ ہے۔جولوگ کسی نہ کسی رنگ میں نظام احمدیت کو دھکا لگاتے ہیں۔اور شیرازہ کو جو ہمیشہ سے ایک امام کے ذریعہ جو خدا