سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 406 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 406

رت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۶ کی کتاب کی اصطلاح میں حَبلُ اللہ کہلاتا ہے توڑتے ہیں۔وہ خواہ کتنے ہی زور سے نَحْنُ مُصْلِحُونَ کہیں۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی مجید حمید کتاب انہیں مصلح نہیں مفسد قرار دیتی ہے۔آپ کی وسعت قلب اور ہمدردی عامہ کے لئے جو میں نے آپ کے ایک ماٹو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے وہ آپ کے اس خلق کی ایک نامکمل تصویر سے زیادہ نہیں۔آپ کی ساری زندگی اس کی عملی تفسیر تھی۔واقعات کی ایک فہرست اس خصوص میں پیش کی جاسکتی ہے۔بلکہ مجھے تو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کا ہر قول اور ہر فعل اسی ہمدردی کا ظہور تھا۔آپ کی بعثت آپ کی تبلیغ آپ کا پند و نصیحت کرنا۔سب اسی ہمدردی عامہ کا ظہور تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں۔ان کی خیر خواہی اور ہمدردی ہمارے دل میں اس قدر بھری ہوئی ہے کہ نہ زبان کو طاقت ہے ☆ کہ بیان کرے اور نہ قلم کو قوت ہے کہ تحریر میں لاوے۔“ (1) بدل در دے کہ دارم از برائے طالبانِ حق نے گردد بیاں آن درد از تقریر کو تا ہم (۲) دل و جانم چناں مستغرق اندر فکر اوشان است کہ ئے از دل خبر دارم نه از جان خود آگا ہم (۳) بدین شادم که غم از بهر مخلوق خدا دارم از میں در لذتم کز در دمے خیز د زدل آہم (۴) مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمتِ خلق است ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم (۵) نه من از خود نهم در کوچه پند و نصیحت پا که همدردی برد آنجا به جبروز ور و اکراهم ترجمہ اشعار۔(۱) وہ درد جو میں طالبان حق کے لئے اپنے دل میں رکھتا ہوں اس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔(۲) میری جان و دل ان لوگوں کی فکر میں اس قدر مستغرق ہے کہ مجھے نہ اپنے دل کی خبر ہے نہ اپنی جان کا ہوش ہے۔(۳) میں تو اس پر خوش ہوں کہ مخلوق خدا کا غم رکھتا ہوں اور اس کے باعث میرے دل سے جو آہ نکلتی ہے اس میں مگن ہوں۔(۴) میرا مقصود اور میری خواہش خدمت خلق ہے یہی میرا کام ہے ، یہی میری ذمہ داری ہے، یہی میرا فریضہ ہے۔(۵) میں نے اپنی مرضی سے وعظ و نصیحت کے کوچہ میں قدم نہیں رکھا بلکہ مخلوق کی ہمدردی مجھے زبر دستی کھینچے لئے جارہی ہے۔