سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 403 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 403

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ دوستو ! خدا کے لئے غور کرو۔اور دنیا کے اس عظیم الشان وسیع الحوصلہ کا پتہ دو کہنے کو یہ چار فقرے ہیں۔مگر ان کے اندر جس قدر معارف اور حقائق کا ذخیرہ ہے۔میں یا آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔اس قلب کی وسعت حوصلگی کا اندازہ کرو جو کہتا ہے خَلْقُ اللَّهِ عَيَالِی “ دنیا کی ساری مخلوق کو جو اپنا کنبہ سمجھتا ہے۔اس کی ہمدردی ، رحم، چشم پوشی ، انکساری مروت کی کوئی حد بھی ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔جیسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ ہے وہ رب العالمین ہے۔اسی طرح پر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود کی شان سے دنیا میں نازل ہوا۔خَلْقُ اللہ کو اپنا عیال قرار دیتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا۔مَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: ۱۰۸) اسی طرح احمد قادیان اپنے قلب کی کیفیت بیان کرتا ہے۔اس چھوٹے سے سینہ میں کائنات عالم کے لئے ہمدردی کا دریا موجزن ہے۔اس قدر وسعت قلب اور مواسات کا جذبہ کسی انسان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔جب تک کہ وہ خدا کے اپنے ہاتھوں سے پاک وصاف نہ کیا گیا ہو۔اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و رحمت عامہ کی تجلی ہر وقت اس پر سایہ میگن نہ ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی ایک بھی مخلوق ایسی نہ تھی۔جس سے حضرت مسیح موعود کو ہمدردی اور محبت نہ ہو۔آج سے ساٹھ سال پیشتر جب انہوں نے اپنے قلب کا مطالعہ کر کے یہ فقرہ لکھا ہوگا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اسے اپنے مامور ہونے کا وہم بھی تھا۔نہیں یہ وہی بات ہے جو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرح صدر کے متعلق پیش آئی۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا الَم نَشْرَحُ لَكَ صَدْرَكَ (الشرح:۲) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شرح صدر کر دیا۔اس میں کوئی بغض اور کینہ کسی سے باقی نہ رکھا گیا۔یہ حضرت مسیح موعود کی اس وحی الہی کے ایک جز و کی تفسیر ہے جو آپ کو دَنَا فَتَدَلی کے الفاظ میں ہوئی۔یہ کیفیت فتدلی کی ہے۔دنا صعود تھا۔یہ نزول ہے۔یہ حالت اُس وقت میسر آتی ہے جب نفوس قدسیہ خدا تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے فیوض الہی کو جذب کر چکنے کے بعد مخلوق کی محبت تامہ کے