سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 401
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ جاتا مگر اس حالت میں بھی حضور نے پسند نہ کیا کہ اُس پر سوالات جرح میں ایسے سوالات کیے جاویں جن سے اس کی زندگی تلخ ہو جاوے۔اس قسم کی متعدد اور بیسیوں مثالیں ہیں۔مختلف لکھنے والے انہیں جمع کر دیں گے۔المختصر ان لوگوں کی ہمدردی ایک نمونہ اور اُسوہ ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہمدردی عامہ کا سب سے بڑا اور عام مظاہرہ یہ تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہر شخص کے لئے جو آپ کو لکھتا دعا کرتے۔اور ان دعاؤں کے متعلق آپ کا جو معمول تھا وہ حیرت انگیز تھا۔چنانچہ حضور نے ۲۶ جنوری ۱۹۰۸ ء کو ایک مجلس میں بعض لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اسی سلسلہ میں آپ نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود کی ہمدردی دعا کے رنگ میں ”جو خط آتا ہے۔میں اُسے پڑھ کر اُس وقت تک ہاتھ سے نہیں دیتا جب تک دعا نہ کرلوں کہ شاید موقع نہ ملے یایاد نہ رہے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس طرز عمل پر غور کرو۔کہ حضور کی خدمت میں سینکڑوں خطوط آتے تھے اور آپ جیسا کہ فرماتے ہیں کسی خط کو ہاتھ سے نہیں دیتے تھے۔جب تک کہ اس کے متعلق دعا نہ کریں۔غور کرو۔کہ کس قدر موتیں یہ وجود ہر روز اپنے اوپر وارد کرتا ہوگا۔اپنے کسی ذاتی فائدہ کے لئے نہیں کسی دنیوی متاع اور مقصد کے واسطے نہیں محض دوسروں کی بھلائی اور فلاح کے لئے یہ فطرت اور یہ سیرت کیا کسی ایسے شخص کومل سکتی ہے جو خدا کا مرسل نہ ہو۔ہم جانتے ہیں اور خود ہمارے اعمال اس امر کی شہادت ہیں کہ بسا اوقات ہم دوسروں کے خطوط کے جواب تک بھی نہیں دیتے۔مگر یہ کیسا دل اور کیسی روح ہے۔کہ دوسروں کی ہمدردی میں اس قدر سوز اور فلق اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔دعاؤں کے متعلق حضور نے بار ہا فرمایا کہ ” منگے سومر رہے“۔یعنی حالت دعا کو پیدا کرنے کے لئے موت کو اپنے اوپر وارد کرنا ہوتا ہے۔جو دوسروں کے لئے دعا کا اس قدر جذ بہ اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کی ہمدردی کا نقشہ دکھانا قطعاً ناممکن ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عامہ ہمدردی کے دوسرے مناظر اور واقعات ہم نہ بھی پیش کریں تو صرف آپ کا یہ