سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 392
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ مساوات ومواسات خدا تعالیٰ کے نبیوں کا یہ بھی ایک خاصہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کسی قسم کا امتیاز ہمدردی عامہ کے سلسلہ میں روانہیں رکھتے۔اور انسانیت کے شرف کو کچلتے نہیں۔بلکہ اسے قائم کرتے ہیں۔ان کی نظر میں رنگ اور ذات اور ملک و قوم کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔بلکہ وہ رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِین ہوتے ہیں۔اس لئے کہ رب العالمین کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے یہ کہنا بالکل درست ہوتا ہے کہ ان کے ہاں کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔ہر ملک اور ہر بستی و ہر قوم کے لوگ یکساں ہوتے ہیں۔اور نہ مال اور نسب یا کسی اور وجہ سے کوئی امتیاز کرتے ہیں۔جو چیز ان کی نظر میں کسی کو ممتاز بناتی - ہے۔وہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے باعث امتیاز قرار دی ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی مکرم و معظم ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔محض وہ علوم وفنون میں کمال اور قابلیت کو باعث تکریم نہیں سمجھتے۔بلکہ اس قسم کے بتوں کولوگوں کے دلوں سے نکالنا چاہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علم کی حقیقت اور اس کا معیار ایک شعر میں بیان کر دیا ہے علم آن بود که نور فراست رفیق اوست اس علم تیرہ را بہ پشیزے نے خرم غرض انبیاء کی بعثت کی یہ بھی ایک غرض ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اخلاص اور وفا کے سبق پڑھا کر مساوات کی سطح پر لے آئیں۔اور ان لوگوں کو جو دنیا کے عرفی امتیازات کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں چھوٹے اور ذلیل ہوتے ہیں۔اٹھا کر معزز اور بڑے بنادیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں جب ہم اس پہلو سے غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ قوم کی تربیت اسی اصول پر کرنے میں پورے کامیاب ہوئے۔اور ما وتو کے امتیازات اٹھا کر ایک وحدت آپ نے پیدا کر ترجمہ۔علم تو وہ ہے کہ فراست کا نور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔اس تاریک علم کو تو میں ایک کوڑی کا بھی نہیں خریدتا۔