سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 367
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۷ مجلس کے حالات سناؤں۔یہ وقت بالکل علیحدگی کا ہے۔جو انسان کی حالت پر پوری روشنی ڈالنے والا ہوتا ہے۔صاحب زادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امتحان انٹرنس دے کر امرتسر سے واپس آئے ہیں۔آپ کے متعلق سلسلہ کلام شروع ہوا۔کسی نے کہا میاں صاحب بہت ڈبلے ہو گئے ہیں۔دوسرے نے کہا ان کو اپنی کمزوری کا خیال کر کے سخت فکر لگی ہوئی ہے۔کہ ایسا نہ ہو فیل ہو جاؤں۔اس پر حضرت میاں صاحب سے کسی بہت ہی پیار کرنے والے نے کہا کہ آپ دعا کریں کہ پاس ہو جاویں۔اس پر اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ نے جو کچھ فرمایا وہ آب زر سے بھی لکھا جائے تو اس کی پوری قدر نہیں ہوسکتی۔یہ فقرات آپ کی اندرونی حالت کا راز ظاہر کئے دیتے ہیں۔اور آپ کی پاک سیرت کو عیاں کر کے دکھاتے ہیں۔فرمایا ”ہمیں تو ایسی باتوں کی طرف توجہ کرنے سے کراہت پیدا ہوتی ہے۔ہم ایسی باتوں کے لئے دعا نہیں کرتے۔ہم کو نہ تو نوکریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارا منشاء ہے کہ امتحان اس غرض سے پاس کئے جاویں۔ہاں اتنی بات ہے کہ یہ علوم متعارفہ میں کسی قدر دستگاہ پیدا کر لیں۔جو خدمت دین میں کام آئے۔پاس فیل سے تعلق نہیں۔اور نہ کوئی غرض۔“ ان فقرات پر غور کرو۔کہ کیا کسی دنیا دار اور دنیا طلب کے منہ سے نکل سکتے ہیں۔ایسی حالت اور ایسے وقت میں جبکہ وہ اپنی بیوی بچوں میں بیٹھا ہوا ہے۔مریدین اور مخلصین کی کوئی کثیر جماعت اس کے ارد گرد نہیں ہے۔اس سے بڑھ کر آپ کی سچائی اور صدق دعوئی پر کس دلیل کی ضرورت ہے۔کہ برخلاف ابناء دنیا کے جو اپنے بیٹوں کے لئے ایسی امتحانی منزلوں کے طے کرانے کے لئے کس قدر اضطراب اور قلق ظاہر کرتے ہیں اور اس کے لئے ہر قسم کے جائز و ناجائز وسائل تک کے استعمال کرنے سے بھی نہیں ڈرتے۔حضرت اقدس اپنے بیٹے کی نسبت اس رنگ کی دعا سے بھی کراہت کرتے ہیں۔یہ واقعہ تو آپ کی زندگی میں آج سے بائیں تئیس سال پیشتر کا ہے ممکن ہے کہ کوئی کم فہم اپنی بدنصیبی سے کہہ اٹھے کہ 66