سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 368
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ اس وقت چونکہ مخلصین کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔اور کسی قسم کی کوئی حجت اور پروانہیں تھی اس لئے ایسا فرمایا۔لیکن میں ایک بہت ہی پرانا واقعہ ناظرین کو سناتا ہوں۔جب کہ نہ یہ سلسلہ تھا اور نہ اس قدر خدام گرد و پیش موجود تھے۔بلکہ تنہائی کی زندگی آپ بسر کر رہے تھے۔اور گوشہ گمنامی میں اپنے محبوب و مولا سے راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے تھے۔اس وقت جناب خان بہادر مرزا سلطان احمد حال پنشنز ڈپٹی کمشنر گوجرنوالہ جو اعلیٰ حضرت کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔امتحان تحصیل داری میں شریک ہوئے انہوں نے دعا کی درخواست کی۔عصر کی نماز کا وقت تھا۔آپ وضو کر رہے تھے۔اس وقت مرزا سلطان احمد کا عریضہ ملا۔آپ نے وضو کر کے اسے دیکھا۔اور نہایت نفرت اور کراہت کے ساتھ اُسے چاک کر کے پھینک دیا۔اور فرمایا۔میں ایسی باتوں کے لئے دعا نہیں کرتا۔مجھے ایسے امور کے لئے دعا کرنے سے نفرت آتی ہے۔اس کے بعد معاً آپ کو الہام ہوا کہ ” پاس ہو جائے گا۔یہ خدا کا فضل تھا۔غرض جہاں تک آپ کی لائف میں نظر کرتے جاویں اس قسم کے ہزاروں واقعات ملیں گے۔مخدوم الملت حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالٰی روایت فرماتے ہیں۔کہ میاں محمود والا واقعہ سن کر میرے دل میں آپ کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت اور بھی زیادہ مضبوط ایمان ہو گیا ہے۔اس لئے کہ جیسا میں ہر موقعہ پر دیکھتا ہوں اس موقعہ پر بھی وہی تجر بہ سچا ثابت ہوا کہ حضرت اقدس کے پیش نظر دین اور اعلاء دین ہی ہے۔محض دنیا کی طرف نہ کبھی توجہ ہوئی ہے اور نہ کبھی متوجہ ہونا پسند کرتے ہیں۔چنانچہ ایک دن فرمایا کہ ”جب کوئی شخص دنیا کے لئے درخواست کرتا ہے۔طبیعت میں بہت کراہت پیدا ہوتی ہے لیکن جب کسی کی درخواست خدا تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے یا کوئی شخص کسی ابتلا میں محض دین کی خاطر مبتلا ہوتا ہے اور ستایا جاتا ہے۔اس وقت دعا 66 کے لئے بے اختیار تحریک پیدا ہوتی ہے۔“ اس وقت کسی کو کیا معلوم تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا یہ واقعہ حضرت مرزا