سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 330 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 330

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۰ ذِكْرُ الْحَبِيبِ حَبِيبٌ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیخ حامد علی مرحوم کو جو دن رات آپ کی خدمت میں رہتے تھے اور جن کی نسبت آپ نے فرمایا تھا کہ حامد علی جیسا کہ اب دنیا میں میرے ساتھ ہے اسی طرح بہشت میں میرے ساتھ ہوگا۔امرتسر کسی کام کے لئے روانہ فرمایا۔چونکہ میں یوں تو ہمیشہ خدمت میں رہتا تھا مگر خدمت کے طور سے مجھ سے کام نہیں لیتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضور شیخ حامد علی تو امرتسر چلے گئے۔رات کو آپ کو تکلیف ہوگی۔میرا جی چاہتا ہے کہ رات کو بھی آپ کی خدمت مبارک میں رہوں۔اور جو کام آپ کے ہوں وہ بخوشی دل سے کروں۔مدتوں میں آج تمنا پوری ہوئی۔فرمایا بہت اچھا۔پھر میں بعد نماز عشاء اس کا تہیہ کر کے مسجد مبارک کی چھت پر پہنچا۔اس زمانہ میں ایک عشرہ کے لئے ایک چلہ کیا تھا۔اور وہ چلہ ایک خاص کام کے لئے دعا کا تھا۔جب میں پہنچا تو فرمایا۔صاحبزادہ صاحب آگئے۔میں نے عرض کیا کہ حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٍ آ گیا۔آپ ٹہلتے رہے اور کچھ دعا ئیں وغیرہ پڑھتے رہے۔پھر آپ نے کلام مجید یعنی حمائل ہاتھ میں لے لی اور مغربی منارہ پر لائین رکھ کر پڑھتے رہے۔درمیانی اور باریک آواز سے۔میں بیٹھا رہا کہ جب کوئی کام حضرت اقدس علیہ الصلوۃ السلام فرمائیں گے میں کروں گا۔خواہ تمام رات جاگنا پڑے۔لیکن آپ نے مجھے کوئی کام نہ فرمایا۔آپ نے اپنا گر تہا تارا اور تہ بند باندھا۔گرمیوں کے دن تھے۔فرش مسجد پر لیٹ گئے۔اس پر بوریا (چٹائی ) یا جانماز کچھ نہیں تھا۔اور سیدھے لیٹ گئے۔ہاتھ پیر پھیلا دیئے۔اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں۔کہ ہمیں بغیر چار پائی کے نیند نہیں آتی ، اور کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ہمیں تو خوب خدا کے فضل سے زمین پر نیند آتی ہے اور ہاضمہ میں بھی کوئی فتور نہیں ہوتا۔میں آپ کے پیر دبانے لگا۔آپ نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب رات بہت چلی گئی، سو جاؤ، تمہیں بہت تکلیف ہوئی۔ہمارے کام