سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 276
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام نے دکھایا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تیمار داری اور عیادت کے واقعات او پر بیان ہو چکے ہیں۔حضرت حکیم الامت اور بعض دوسرے دوستوں کی علالت میں بھی آپ کا کرم ورحم بے حد تھا اور مرض الموت میں یہی انسان کے لئے تسلی بخش ہوتا ہے۔علاج معالجہ بھی کرتے تھے شاید یہ باب نامکمل رہ جائے اگر میں یہ ذکر خود نہ کروں کہ بیماروں کے ساتھ ہمدردی لفظا ہی نہ تھی اور نہ دوسروں کی تاکید کی صورت میں ہی تھی بلکہ آپ خود علاج بھی فرمایا کرتے تھے اور یہ بطور پیشہ کے نہیں بلکہ محض خدا کی مخلوق کی ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے۔آپ نے طبّ اپنے والد صاحب سے سبقاً پڑھی تھی مگر بطور پیشہ اس کو کبھی اختیار نہ کیا البتہ کسی کو جب ضرورت ہوتی تو آپ اس کا علاج بغیر کسی اجورہ کی ادنیٰ سے تحریک اور خواہش کے بھی کرتے اور قیمتی ادویات اپنے پاس سے دے دیتے۔اوائل میں آپ کے گھر میں اچھا خاصہ ہسپتال تھا اور صبح کے وقت کا بہت ساحصہ غرباء اور مرضی کو ادویات دینے میں بھی صرف ہوتا تھا اور آپ اس خدمت کو اسی طرح کرتے جس طرح دوسری دینی خدمات کو پوری مسرت اور انشراح کے ساتھ۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اس کا نقشہ چشم دید واقعہ کی بنا پر کھینچا ہے اور بہترین نقشہ دکھایا ہے فرماتے ہیں۔و بعض اوقات دوا درمل پوچھنے والی گنواری عورتیں زور سے دستک دیتی ہیں اور اپنی سادہ اور گنواری زبان میں کہتی ہیں مر جا جی بُوا گھو لوتاں“ حضرت اس طرح اٹھتے ہیں جیسے مطاع ذیشان کا حکم آیا ہے اور کشادہ پیشانی سے باتیں کرتے اور دوا بتاتے ہیں۔ہمارے ملک میں وقت کی قدر پڑھی ہوئی جماعت کو بھی نہیں تو پھر گنوار تو اور بھی وقت کے ضائع کرنے والے ہیں۔ایک عورت بے معنی بات چیت کرنے لگ گئی ہے اور اپنے گھر کا رونا اور ساس نند کا گلہ شروع کردیا اور گھنٹہ بھر اسی میں ضائع کر دیا