سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 275 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 275

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا لودعلیہ السلام ۲۷۵ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا واقعہ ایک دفعہ آپ نے کشف میں صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے متعلق دیکھا کہ وہ مبہوت اور بدحواس ہو کر دوڑتا ہوا آپ کے پاس آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ ابا پانی یعنی مجھے پانی دو۔حضرت اقدس اس وقت باغ میں مقیم تھے اور دو گھنٹہ بعد اس کشف کے بعینہ یہ واقعہ پیش آیا۔آٹھ بجے صبح کا وقت تھا اور حضرت اقدس ایک درخت کے نیچے کھڑے تھے۔مبارک احمد چار برس کی عمر کا تھا۔یکا یک وہ اسی طرح مبہوت حضرت کی طرف آیا اور کشف پورا ہو گیا ، آپ فرماتے ہیں۔” میں نے اس کو گود میں اٹھالیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں تیز قدم اٹھا کر اور دوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اس کے منہ میں پانی ڈالا۔اس نقشہ کا تصور کریں کہ جب آپ چار برس کے بچہ کو اٹھاتے ہوئے کنویں کی طرف بھاگے جارہے تھے۔آپ نے یہ پروانہیں کی کہ میں آواز دے کر اپنے بیسیوں خادموں کو بلاسکتا ہوں پانی ہی منگوا سکتا ہوں۔کسی کا انتظار نہیں کیا بلکہ خود اٹھا کر بھاگتے ہوئے کنوئیں کی طرف چلے گئے۔اپنی اولا داور ا قارب کے ساتھ ہی یہ بات مخصوص نہ تھی بلکہ ہر ایک کے ساتھ آپ کو اسی قسم کا در دتھا اور آپ دوسروں کے لئے اپنا آرام قربان کر دیتے تھے۔حضرت ام امؤمنین پر جب کبھی بیماری کا حملہ ہوتا تو آپ ہر طرح آپ کی ہمدردی اور خدمت کرنا ضروری سمجھتے تھے اور اپنے عمل سے آپ نے یہ تعلیم ہم سب کو دی کہ بیوی کے کیا حقوق ہوتے ہیں؟ جس طرح پر وہ ہماری خدمت کرتی ہے عند الضرورت وہ مستحق ہے کہ ہم اسی قسم کا سلوک اس سے کریں۔چنانچہ آپ علاج اور توجہ الی الہ ہی میں مصروف نہ رہتے بلکہ بعض اوقات حضرت ام المؤمنین کو دباتے بھی تا کہ آپ کو تسلی اور سکون ملے۔احمق اور نادان ممکن ہے اس پر اعتراض کریں مگر حقیقت میں نسوانی حقوق کی صیانت اور ان کے حقوق کی مساوات کا یہ بہترین نمونہ ہے جو حضرت مسیح موعود