سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 252
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۲ یکہ پر بیٹھے ہوتے تو حضور کی زیارت کرنے والے لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے یکہ کے چلانے میں بہت دیر لگتی اور اس طرح پر میں اپنی لڑکی کے پاس نہ جاسکتا تھا۔حضور نے میری ایک معمولی سی خواہش کے پورا کرنے کے لئے خود تو تکلیف اٹھائی لیکن میرے دل کا ذرا بھی رنجیدہ اور ملول ہونا پسند نہ فرمایا۔ایسے اخلاق کا نمونہ صرف ان ہی لوگوں 66 سے ظہور پذیر ہوتا ہے جو تَخَلَّقُوا بِاَخلاقِ اللہ کا کامل نمونہ ہوتے ہیں ورنہ ہر ایک انسان کا ایسے اخلاق والا ہونا کوئی آسان کام نہیں۔“ میں نے دیکھا ہے کہ جب منشی اروڑے خان صاحب یہ واقعہ بیان کرتے تھے تو ان کی آنکھیں پرنم اور آواز میں ایک رقت اور سوز پیدا ہو جاتا تھا۔یہ واقعہ کلارک کے مقدمہ کا ہے۔گورداسپور میں منشی اروڑے خان صاحب اپنے ایک واقف و آشنا کے ہاں چند احباب کو لے گئے تھے۔چونکہ منشی صاحب بڑے بے تکلف دوست تھے اور احباب کی خاطر تواضع میں وہ خود بہت ہی فراخ دلی اور وسعت حوصلہ سے کام لیا کرتے تھے اور اکثر لوگوں سے جو ان سے تعلق رکھتے موقع مناسب پر مدد کرنے سے کبھی فرق نہ کرتے تھے اس لئے وہ اپنے ایسے دوستوں کے ہاں جب جاتے تو وہ خود بے تکلفی سے کھاتے پیتے تھے۔غرض گورداس پور جا کر انہوں نے اپنے ایک واقف کار کے ہاں مختلف چیزوں کا آرڈر دے دیا دوسرے روز شام کی گاڑی سے ہم سب واپس ہو رہے تھے۔حضرت صاحب قادیان کو جارہے تھے اور میں اور بعض دوسرے دوست امرتسر اور کپورتھلہ وغیرہ کو۔غرض منشی صاحب کے قلب پر اس واقعہ کا ایک خاص اثر تھا بلکہ بعض وقت وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں اس وقت کو بعض وقت یاد کرتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔اگر میں اس ضرورت کا اظہار نہ کرتا تو حضرت صاحب کو یہ تکلیف نہ ہوتی۔مگر میں انہیں کہتا کہ منشی صاحب! اگر آپ ظاہر نہ کرتے تو مسیح موعود کا یہ اخلاقی معجزہ ظاہر نہ ہوتا کہ آپ نے ایثار کا کامل نمونہ دکھایا۔