سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 253 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 253

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام ۲۵۳ میر عباس علی صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جیسا کہ میں اس باب کے شروع میں بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام عہد دوستی کی بہت بڑی رعایت کرتے تھے اور حتی الوسع نہیں چاہتے تھے کہ یہ عہد ضائع ہو۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں آپ کے بہت بڑے مداح اور موید تھے اور اس کی وجہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی متقیانہ زندگی اور خدمت اسلام کے لئے آپ کا صادقانہ درد تھا اس لئے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کے حالات سے سماعی طور پر واقف نہ تھے بلکہ وہ آپ کے ہم مکتب بھی رہ چکے تھے۔انہوں نے براہین احمدیہ پر ریویو کرتے وقت اسی ایک امر کو بیان کیا تھا کہ میں ذاتی طور پر واقف ہوں اور یہ بالکل درست تھا ، غرض براہین احمدیہ کی تصنیف کے عہد میں وہ ایک دوستانہ اور مخلص دوستانہ تعلق آپ سے رکھتے تھے۔اس اخلاس میں یہاں تک ترقی کی کہ وہ حضرت مسیح موعود کو وضو کرانا اپنی عزت اور سعادت سمجھتے تھے۔لیکن جب آپ نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو مولوی محمد حسین صاحب نے اختلاف کیا۔اس اختلاف کی وجوہات کچھ بھی ہوں انہوں نے اختلاف کیا اور یہ اختلاف اس حد تک بڑھا کہ انہوں نے تمام ہندوستان میں سفر کر کے آپ اور آپ کے متبعین پر کفر اور قتل کا فتویٰ مرتب کرایا اور اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ کو مخالفت کے لئے وقف کر دیا۔یہاں تک ہی نہیں بلکہ بٹالہ کے اسٹیشن پر قادیان کو آنے والی سڑک پر علی العموم وہ اس غرض کے لئے آتے جاتے تھے کہ قادیان کو آنے والے لوگوں کو روکیں اور ہر طرح سے کوشش کرتے پھر اس پر بھی بس نہ کر کے عیسائیوں کے مقدمہ اقدام قتل میں شہادت دی۔پنڈت لیکھرام کے قتل ہو جانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سازش کا الزام لگانے کی تگ و دو کی اور ہر ممکن سے ممکن کوشش حضرت مسیح موعود کو تکلیف پہنچانے آپ کے سلسلہ کو ناکام بنانے کے لئے کی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیشہ اس عہد دوستی کی رعایت کی اور مولوی محمد حسین صاحب کا یہ حال ہو گیا کہ جب کبھی کوئی امرا سے پیش آجا تا جس کا کچھ بھی تعلق حضرت مسیح موعود سے ہوتا تو فوراً اس کے لئے لکھ دیتا۔اشاعۃ السنہ کے خریداروں میں اکثر وہ لوگ بھی تھے جو بعد میں اس