سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 200
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۰ آپ کو مخلصی عطا فرما دے۔وہ اپنے مخلص بندوں پر اُن کے ماں باپ سے بہت زیادہ رحم کرتا ہے۔اس کو نذروں کی کچھ حاجت نہیں مگر بعض اوقات اخلاص آدمی کا اسی راہ سے متحقق ہوتا ہے۔استغفار اور تضرع اور تو بہ بہت ہی عمدہ چیز ہے اور بغیر اس کے سب نذریں بیچ اور بے سود ہیں۔اپنے مولیٰ پر قوی امید رکھو اور اس کی ذات بابرکات کو سب سے زیادہ پیارا بناؤ کہ وہ اپنے قوی الیقین بندوں کو ضائع نہیں کرتا۔اور اپنے سچے رجوع دلانے والوں کو ورطہ عموم میں نہیں چھوڑتا۔رات کے آخری پہر میں اٹھواور وضو کرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجالاؤ۔اور دردمندی اور عاجزی سے یہ دعا کرو کہ اے میرے محسن اور میرے خدا میں ایک تیرا نا کارہ بندہ پر معصیت اور پر غفلت ہوں۔توں نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھ نالائق اور پر گناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں۔آمین ثم آمین۔مگر مناسب ہے کہ بروقت اس دعا کے، فی الحقیقت دل کامل جوش سے اپنے گناہ کا اقرار اور اپنے مولیٰ کے انعام و کرام کا اعتراف کرے کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا کچھ چیز نہیں جوش دلی چاہیے اور رقت اور گر یہ بھی۔یہ دعا معمولات اس عاجز سے ہے اور در حقیقت اسی عاجز کے مطابق حال ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنه ۲۰ اگست ۱۸۸۵ء حضرت حکیم الامت نے اس خط پر یہ نوٹ فرمایا ہے۔وو الحکم مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۰ ء صفحه ۶،۵) یہ لڑ کا اس وقت اس مرض سے بچ گیا تھا پھر دوبارہ سُعَال وَ اُمُّ الصّبیان میں انتقال کر