سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 126 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 126

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل سے آرہا تھا۔جب میں مسجد اقصیٰ کے قریب جو بڑی حویلی (ڈپٹی شنکر داس کی حویلی ) ہے وہاں پہنچا تو میں نے اس جگہ ( جہاں اب حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا مکان ہے۔اور اس وقت یہ جگہ سپید ہی تھی )۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک مزدور کے پاس جو اینٹیں اٹھا رہا تھا کھڑے ہوئے دیکھا۔حضرت صاحب نے بھی مجھے دیکھ لیا۔آپ مجھے دیکھتے ہی مزدور کے پاس سے آ کر راستہ پر کھڑے ہو گئے۔میں نے قریب پہنچ کر السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا۔آپ نے وعلیکم السلام فرمایا اور فرمایا کہ اس وقت کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں رات بٹالہ رہا ہوں اور اب حضور کی خدمت میں وہاں سے سویرے چل کر حاضر ہوا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ پیدل آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور۔افسوس کے لہجے میں فرمایا کہ تمہیں بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔میں نے عرض کیا کہ حضور کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ چائے پیو گے یاسی ؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کچھ بھی نہیں پیوں گا۔آپ نے فرمایا تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ، ہمارے گھر گائے ہے جو کہ تھوڑ اسا دودھ دیتی ہے۔گھر والے چونکہ دہلی گئے ہوئے ہیں اس لئے اس وقت کسی بھی موجود ہے اور چاء بھی ، جو چاہو پی لو۔میں نے کہا حضور لسی پیوں گا۔آپ نے فرمایا اچھا چلو مسجد مبارک میں بیٹھو۔میں مسجد میں آکر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد بیت الفکر کا دروازہ کھلا۔میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ایک کوری ہانڈی معہ کوری چینی کے جس میں کسی تھی خود اٹھائے ہوئے دروازہ سے نکلے، چینی پر نمک تھا اور اس کے اوپر ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔حضور نے وہ ہانڈی میرے سامنے لا کر رکھ دی اور خود اپنے دست مبارک سے گلاس میں کسی ڈالنے لگے میں نے خود گلاس پکڑ لیا۔اتنے میں چند اور دوست بھی آگئے میں نے انہیں بھی لسی پلائی اور خود بھی پی۔پھر حضور خود وہ ہانڈی اور گلاس لے کر اندر تشریف لے گئے۔حضور کی اس شفقت اور نوازش کو دیکھ کر میرے ایمان کو بہت ترقی ہوئی اور یہ حضور کے اخلاق کریمانہ کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔ڈاکٹر عبداللہ صاحب اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے زندہ ہیں اور یہ خود ان کا اپنا بیان ہے۔سادگی کے ساتھ اس واقعہ پر غور کرو کہ حضرت مسیح موعود کے کیریکٹر (سیرت) کے بہت سے