سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 125
حصّہ اوّل سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ ہبہ کر دے۔خدا تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔آمین۔پھر وہ سارا مکان حضرت کے قبضہ میں آ گیا۔خص عرفانی ) میں سنتا رہا۔حضرت صاحب نے بیوی صاحبہ کو ایک کہانی سنانی شروع کی۔فرمایا ایک شخص کو جنگل میں رات آ گئی۔اس نے ایک درخت کے نیچے بسیرا کر دیا۔اس درخت کے اوپر ایک کبوتر اور کبوتری کا گھونسلہ بنا ہوا تھا۔وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمارے ہاں مہمان آیا ہے۔اس کی کیا خاطر کریں۔نرنے کہا کہ سردی ہے بسترا اس کے پاس نہیں ہم اپنا آشیانہ گراد میں اس سے آگ جلا کر یہ رات گزار لے گا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے سوچا اب اس کے واسطے کھانا نہیں ہے ہم دونوں اپنے آپ کو نیچے گرادیں تا کہ وہ ہمیں بھی کھالے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس لطیف پیرایہ میں اکرام ضیف کی تاکید فرمائی حضرت ام المومنین کواللہ تعالیٰ نے خود ایک وسیع حوصلہ دیا ہے اور وہ مہمانوں کی خدمت و دلداری میں جوحصہ لیتی ہیں اس سے وہ لوگ خوب واقف ہیں جن کی مستورات سالانہ جلسہ پر آتی ہیں۔شروع شروع میں قادیان میں ضروری اشیاء بھی بڑی دقت سے ملا کرتی تھیں تو مہمانوں کی کثرت بعض اوقات انتظامی دقتیں پیدا کر دیا کرتی تھی۔یہ گھبراہٹ بھی انہیں دقتوں کے رنگ میں تھی۔یہ واقعہ حضرت صاحب کی مہمان نوازی کا ہی بہترین سبق نہیں بلکہ مہمانوں کے لئے وہ اعلیٰ درجہ کی محبت و ایثار جو آپ میں تھا اور جو آپ اپنے گھر والوں کے دل میں پیدا کرنا چاہتے تھے اس کی بھی نظیر ہے پھر آپ کے حسن معاشرت پر بھی معا روشنی ڈالتا ہے کہ کس رفق اور اخلاق کے ساتھ ایسے موقعہ پر کہ انسان گھبرا جاتا ہے اصل مقصد کو زیر نظر رکھتے ہیں۔( عرفانی ) (۳) ڈاکٹر عبداللہ صاحب نو مسلم کا واقعہ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لا ہور سے دو دن کی رخصت لے کر آیا۔( ڈاکٹر صاحب انجمن حمایت اسلام کے شفا خانہ میں کام کرتے تھے۔ایڈیٹر ) رات کی گاڑی پر بٹالہ اترا اس لئے رات وہیں رہا۔اور صبح سویرے اٹھ کر قادیان کو روانہ ہو گیا۔اور ابھی سورج تھوڑا ہی نکلا تھا کہ یہاں پہنچ گیا۔میں پرانے بازار کی طرف