سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 94 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 94

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۹۴ حصّہ اوّل ہو وہی اُس سے صادر ہوتا ہے اور اسی کو وہ اصل محکم سمجھ کر اس سے جو کمی بیشی ہو اس کو افراط اور تفریط سمجھتا ہے۔ایسا ہی تزکیہ نفس کی حالت میں توحید عملی غرض ہوتی ہے اور اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ تا اپنے صحن قلب کو دخل غیر اللہ سے پاک اور صاف کرے۔“ (الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه کالم نمبر ) امام غزالی نے اخلاقی امراض کی تقسیم پر بڑی موشگافی کی ہے اور متاخرین نے اس کی بہت داد دی ہے اور کچھ شک نہیں وہ قابل قدر بھی ہے لیکن حضرت مسیح موعود نے اخلاقی امراض کی تقسیم اور اس کے علاج میں جو طریق اختیار کیا ہے وہ اپنی نوعیت میں ہی نہیں کہ نرالا اور مکمل ہے بلکہ وہ انسانی زندگی کے مقصد اور مدعا کو پورا کرنے والا ہے۔حق العباد حق النفس میں عملی صراط مستقیم کا امتیاز بتاتے ہوئے ایک ایسے جامع طریق پر اخلاقی امراض اور اُن کے علاج کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ طریق کوئی شخص بیان نہیں کر سکتا جب تک اس نے خدا تعالیٰ سے خاص قوت نہ پائی ہو اور وہ اس کی روح سے نہ بولتا ہو۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔ایسا ہی تزکیہ نفس کی حالت میں توحید عملی غرض ہوتی ہے اور اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ تا اپنے صحن قلب کو دخل غیر اللہ سے صاف اور پاک کرے اور بلا شبہ اخلاق رذیلہ سب غیر اللہ ہیں جو کسی خود غرضی کے منشاء سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ایک شخص جو تکبر کرتا ہے اس کو اپنے نفس کو بزرگ بنانا مد نظر ہوتا ہے۔ایسا ہی معجب میں بھی اپنے نفس کی خوبی دیکھی جاتی ہے۔بخل میں بھی اپنی ہی خودداری منظور ہوتی ہے۔حرص بھی اپنا ہی نفس خوش کرنے کے لئے ہوا کرتی ہے۔پس انسان کی فلاح کلی شرک سے اسی میں ہے کہ وہ اخلاق ذمیمہ سے تزکیہ اپنے نفس کا کر کے توحید عملی اختیار کرے اور اسی کی طرف اشارہ ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا (الشمس: ۱۰) اور اسی کی طرف اشارہ ہے الَّذِینَ امَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَيْكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمُ مُهْتَدُونَ (الانعام: ۸۳) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی