سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 269
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا وعود علیہ السلام ۲۶۹ میاں محمد بخش اسی بیماری سے حضرت صاحب کے ساتھ ہی بیمار ہوا تھا اور آٹھویں دن فوت ہو گیا مگر حضرت سولہ دن تک یہ تکلیف اٹھاتے رہے اور آخر حالت یہ ہوگئی کہ آپ چار پائی سے اٹھ نہ سکتے تھے اور بالکل نومیدی کی حالت نمودار ہوئی اور عزیزوں نے تین مرتبہ سورۃ یسین بھی سنائی۔آپ کو اگر چه تاب گویائی نہ تھی تاہم آپ کے ہونٹ ہلتے معلوم ہوتے تھے اور آپ تسبیح میں لگے ہوئے تھے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر القا کیا کہ دریا کی ریت جس کے ساتھ پانی بھی ہو تسبیح اور درود کے ساتھ اپنے بدن پر ملو چنانچہ ریت منگوائی گئی اور آپ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ العظیم اور درود شریف کے ساتھ وہ ریت ملتے تھے اور جوں جوں ملتے جاتے تھے بدن آگ میں سے نجات پاتا جاتا تھا اور صبح تک وہ مرض بالکل دور ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی الہام ہوا ” وَانُ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَا تُوْا بِشِفَاءٍ مِّنْ مِّثْلِهِ “۔یہ واقعہ آپ کی بعثت سے پہلے کا ہے اور ابھی تک اس کے دیکھنے والے موجود ہیں آپ نے اپنی تصانیف میں بھی اسے شائع کیا ہے۔غرض بیماروں میں جو چڑ چڑا اپن ، گھبراہٹ اور بیقراری ہوتی ہے وہ آپ میں کبھی نہیں پائی گئی۔عام طور پر آپ کی حالت یہ تھی کہ بیماری میں خاموش پڑے رہتے تھے اور خدا کی تحمید اور تسبیح کرتے رہتے یا درود شریف پڑھتے رہتے۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ اس وقت کی حالت ہے جبکہ آپ پبلک میں نہ آئے تھے اور گردو پیش لوگوں کا ہجوم نہ تھا۔مگر یہ بات غلط ہے آپ کی حالت کی تبدیلی نے آپ کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔اس وقت بھی آپ ایک بڑے کنبہ کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان ذی وجاہت اور نوکروں چاکروں کی کبھی کمی نہ تھی۔مگر آپ کی خلوت پسند طبیعت نے کبھی یہ گوارا ہی نہیں کیا۔مزاج میں ایک قسم کا سکون تھا اور بیماری میں بے قراری اور بے تابی آپ کے پاس نہ آتی تھی۔