سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 270
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا زمانہ بعثت کے بعد علالت ۲۷۰ مبعوث ہونے کے بعد جبکہ لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوگئی تب بھی آپ کی یہی حالت تھی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے موافق دوز رد چادروں میں تو آپ ہمیشہ رہتے ہی تھے۔یعنی دوران سر اور ذیا بیطیس کی شکایت رہتی تھی۔مگر ان بیماریوں کے باوجود اپنے کاروبار میں ہمیشہ مصروف رہتے بلکہ سچ یہ ہے کہ جس قدر بڑی بڑی کتابیں آپ نے تصنیف فرمائی ہیں وہ انہیں بیماریوں کے حملے میں۔آپ ہمیشہ اپنی بیماری کو خدا تعالیٰ کی کسی عظیم الشان مصلحت کا نتیجہ یقین کرتے تھے۔اور بیماری میں آپ کی توجہ دعا اور خدا تعالیٰ کی طرف بے حد مبذول ہوتی جاتی تھی۔نہ یہ کہ خود دعا کیا کرتے بلکہ دوسرے دوستوں کو بھی دعا کے لئے تحریک کرتے رہتے اور یہ ایک ایسا امر ہے جس سے آپ کا دعا پر یقین اور ایمان کامل ثابت ہوتا ہے۔مئی ۱۹۰۲ء کے عشرہ اوّل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درد گردہ کی قسم کا ایک حملہ ہوا۔یہ حملہ نہایت خطر ناک تھا۔حضرت حکیم الامت آپ کا علاج کر رہے تھے۔مگر اس حملہ میں جوموت کے قریب پہنچا دینے والا تھا۔کسی قسم کی جزع فزع ہائے وائے آپ کے منہ سے نہیں سنی گئی۔آپ خود بھی دعا میں مصروف تھے اور خدام کو بھی آپ نے دعا کے لئے خاص طور پر تاکید کی۔چنانچہ مسجد اقصیٰ میں خاص طور پر دعا کی گئی۔اس وقت حالت ایسی ہو گئی تھی کہ گویا آخری وقت ہے۔مگر آپ کی طرف سے کسی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا اظہار نہ تھا۔حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب کو حکم دیا کہ باہر بھی دوستوں کو دعا کے لئے خطوط لکھیں۔چنانچہ ارمئی ۱۹۰۲ء کو انہوں نے کچھ خطوط لکھ دیئے مگر رات کو ہی آپ کی حالت میں ایک فوری تغیر ہوا۔چنانچہ امئی ۱۹۰۲ء کو الحکم کا جو غیر معمولی نمبر میں نے شائع کیا اس میں حضرت مولوی صاحب نے آپ کے کلمات طیبات کو لکھا۔جس سے آپ کی اس حالت ایمانی اور عرفانی کا پتہ لگتا ہے جو حالت مرض میں تھی۔چنانچہ فرماتے ہیں۔