سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 65
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ ا وعود علیہ السلام حصّہ اوّل نے بھی اپنی عینی شہادت کا اظہار کیا۔(ایڈیٹر )۔“ نوری ڈھونکا فجر کی نماز کے بعد آپ تھوڑی دیر استراحت فرماتے جیسا کہ میں نے سیرت مسیح موعود کی پہلی جلد کے دوسرے نمبر میں ذکر کیا ہے ( حیات احمد جلد اول حصہ دوم صفحہ ۲۲۸ شائع کردہ نظارت اشاعت) اور آپ اس کو نوری ڈھونکا کہا کرتے تھے۔یہ زمانہ قبل بعثت کی بات ہے کہ آپ نے اس استراحت کو نوری ڈھونکا فرمایا۔آپ کے اس معمول کا ذکر اور تصدیق مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو اعجاز نما کرتہ کے متعلق انہوں نے بیان کی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رات کا ایک بہت بڑا حصہ آپ عبادت اور دعا میں گزار دیتے تھے اس لئے فجر کی نماز کے بعد آپ تھوڑی دیر کے لئے استراحت فرمالیا کرتے۔جب استراحت نہ فرماتے تو کیا معمول تھا عام عادت یہ ضرور تھی مگر بعثت کے بعد جب مصروفیت بڑھ گئی تو یہ حالت نہ رہی کبھی استراحت فرمالیتے اور کبھی نہیں۔اور جب آپ مسجد میں فجر کی نماز کے بعد بیٹھ جاتے تو اس عرصہ میں آپ کے معمولات میں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ عام طور پر خدام کو وعظ و نصیحت فرماتے یا کسی خواب یا الہام کا اظہار فرماتے اور اگر کسی کو کوئی خواب آیا ہوتو وہ سنتے اور اس کی تعبیر فرماتے۔اور بعض عام معاملات پر بھی گفتگو فرماتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ طریق بالکل حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے طریق عمل سے ملتا ہے۔حضرت نبی کریم ﷺ بعد نماز فجر مسجد میں بیٹھ جاتے اور آپ ان کو وعظ ونصیحت فرماتے۔اور اکثر صحابہ سے پوچھتے کہ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو۔اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا اور آپ اس کی تعبیر کرتے یا اپنا کوئی رؤیا بیان کرتے۔غرض یہی طریق حضرت مسیح موعود کے معمول میں پایا جاتا ہے جبکہ آپ فجر کی نماز کے بعد تشریف فرما ہوتے اور آفتاب کے اچھی طرح سے نکل آنے تک بیٹھے رہتے۔اس موقعہ پر ہر قسم کی گفتگوؤں کا سلسلہ جاری رہتا اور کبھی کبھی بڑی لمبی