سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 66
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۶ حصّہ اوّل تقریریں بھی آپ فرماتے۔ان تمام امور کی تصریح اور تفسیر الحکم اور بدر کی ڈائریوں میں ملے گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد نبوت میں قلم بند ہوکر شائع ہوئیں۔خواب سننے اور سنانے کی عادت میں نے کی پہلی جلد میں صفحہ ۸۴ پر اس امر کا ذکر کیا ہے کہ ”خوابوں کی تعبیر اور کیفیت کے سمجھنے کا بھی ایک خاص مذاق اور ملکہ تھا۔گھر والے سب کے سب اور دوسرے لوگ بھی اس بات کے قائل تھے۔کہ علم تعبیر الرؤیا میں 66 مرزا صاحب کو بہت مہارت ہے۔اور ان کی تعبیریں صحیح ہوتی ہیں۔“ حیات احمد جلد اصفحه ۱۰۴ شائع کردہ نظارت اشاعت ) پھر اسی جلد کے دوسرے نمبر میں لالہ ملا وامل صاحب سے ابتدائی ملاقات کے سلسلہ میں صفحه ۱۴۸/۵۲ پر ان کی ہی روایت سے میں نے لکھا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد حضرت مرزا صاحب کی عادت تھی کہ تھوڑی دیر سو جایا کرتے اور اس کو نوری ڈھونکا کہا کرتے تھے اس نوری ڈھونکے کی حالت میں ہم دوکان کھولنے سے پہلے وہاں جاتے اور آپ کو جا جگاتے۔وہ آواز دینے پر فور ابلاکسی اظہار ناراضگی یا تکاہل کے اٹھ بیٹھتے اور دریافت کرتے کہ کیا کیا خواب آئی ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہوتی یا انہیں آئی ہوتی تو بیان کرتے۔( حیات احمد جلد اصفحه ۲۲۸ شائع کردہ نظارت اشاعت) ایسا ہی اسی نمبر کے صفحہ ۱۹۱۱۹۴ پر ”میاں غفارا نمازی بن گیا“ کے عنوان کے نیچے بھی آپ کی اس عادت شریفہ کا ذکر کیا ہے کہ اس کو نماز اور درود شریف پڑھنے کی تاکید کی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ”جو خواب وغیرہ آیا کرے صبح کو سنایا کرو۔چنانچہ اُن سب کا یہ معمول ہو گیا۔اور تعبیر جو حضرت صاحب بیان کرتے وہ صحیح ثابت ہوتی۔“ ( حیات احمد جلد اصفحه ۳۰۳ شائع کردہ نظارت اشاعت) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی سیرت المہدی میں بھی آپ کی اس عادت